سری لنکا میں 20 پاکستانی نوجوان دو سال سے زائد عرصہ سے محصور، 22 سالہ ذیشان علی نے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کرلی

گجرات کا رہائشی نوجوان زندگی کی بازی ہار گیا، لاش تاحال مقامی ہسپتال میں موجود، دیگر پاکستانی نوجوان شدید صدمے سے دوچار، سفری و ورک پرمٹ کے بغیر طویل عرصے سے پھنسے پاکستانیوں کا حکومت سے فوری مداخلت اور وطن واپسی کا مطالبہ

اسلام آباد/کولمبو(اظہار خان نیازی سے) سری لنکا میں مبینہ طور پر قانونی جواز کے بغیر حراست اور طویل عرصے سے جاری بے یقینی کے باعث 20 پاکستانی نوجوانوں کی مشکلات سنگین انسانی المیے میں تبدیل ہونے لگی ہیں، گجرات سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ پاکستانی نوجوان ذیشان علی نے 8 اگست کو دلبرداشتہ ہو کر مبینہ طور پر خودکشی کرلی، نوجوان کی لاش تاحال سری لنکا کے ایک مقامی ہسپتال میں موجود ہے جبکہ اس افسوسناک واقعے نے وہاں پھنسے دیگر پاکستانی نوجوانوں کو بھی شدید صدمے اور کرب میں مبتلا کردیا ہے۔ متاثرہ پاکستانی نوجوانوں اور ان کے اہلخانہ کے مطابق یہ نوجوان روزگار کی تلاش میں سری لنکا گئے تھے جہاں انہیں چینی شہریوں کے زیرانتظام ایک کمپنی میں کال سینٹر آپریٹرز کے طور پر ملازمت دی گئی، تاہم کمپنی کے اندرونی معاملات اور مبینہ سرگرمیوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ بعدازاں سری لنکن حکام نے چینی کمپنی کے مالکان کے ساتھ پاکستانی ملازمین کو بھی حراست میں لے لیا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے ضمانت ملنے کے باوجود چینی مالکان اپنے مالی وسائل اور بااثر روابط استعمال کرتے ہوئے ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستانی نوجوان بدستور مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ متاثرہ پاکستانیوں کے مطابق وہ گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے سری لنکا میں محصور ہیں اور ان کے پاس نہ سفری اجازت ہے، نہ کام کرنے کی اجازت اور نہ ہی مستقل ذریعہ آمدن، جس کے باعث وہ خوراک، رہائش، قانونی اخراجات اور دیگر بنیادی ضروریات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ذیشان علی کی موت نے صورتحال کی سنگینی مزید آشکار کردی ہے۔ ساتھی پاکستانی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ذیشان کی موت کے بعد دیگر نوجوان شدید ذہنی دباؤ، خوف اور مایوسی کا شکار ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ اگر فوری طور پر حکومت پاکستان نے عملی اقدامات نہ کیے تو کوئی اور بڑا سانحہ رونما ہوسکتا ہے۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے پیاروں کی حالت کے باعث شدید اذیت میں مبتلا ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے بچے کب اور کس حالت میں وطن واپس آسکیں گے۔ متاثرین نے حکومت پاکستان، وزارت خارجہ اور پاکستانی سفارتخانے سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کو محض ایک قانونی کیس سمجھنے کے بجائے انسانی بحران کے طور پر دیکھا جائے، سری لنکن حکام سے فوری رابطہ کرکے مقدمے کی شفاف اور جلد سماعت یقینی بنائی جائے اور ان پاکستانی شہریوں کے قانونی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ متاثرین کا مؤقف ہے کہ اگر ان نوجوانوں کے خلاف کوئی ٹھوس جرم ثابت نہیں ہوا تو انہیں غیرمعینہ مدت تک سری لنکا میں بے یار و مددگار رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی حکومت فوری طور پر ان کے لیے قانونی معاونت، خوراک، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کا بندوبست کرے، ان کے سفری دستاویزات اور وطن واپسی کی راہ ہموار کرے اور سری لنکن حکومت سے ان کی محفوظ اور باعزت واپسی کے لیے سفارتی سطح پر مؤثر اقدامات کرے۔ متاثرہ خاندانوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ 22 سالہ ذیشان علی کی المناک موت کو آخری سانحہ بناتے ہوئے فوری مداخلت کی جائے۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ایک نوجوان کی جان چلی گئی ہے، دیگر نوجوان شدید ذہنی اذیت میں ہیں اور مزید کسی جانی نقصان کا انتظار نہیں کیا جاسکتا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سری لنکا میں موجود پاکستانی نوجوانوں کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور انہیں قانونی و انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے میں کردار ادا کریں۔ متاثرین اور ان کے اہلخانہ نے واضح کیا ہے کہ انہیں کسی رعایت یا غیرقانونی سہولت کا مطالبہ نہیں بلکہ صرف انصاف، قانونی تحفظ، بنیادی انسانی ضروریات اور اپنے پیاروں کی بحفاظت وطن واپسی چاہیے۔