کلرسیداں کی نوجوان شاعرہ طیبہ نور کی غزلیں ادبی حلقوں میں مقبول

سماجی ناانصافی، ظلم اور عوامی مسائل پر مبنی فکر انگیز کلام کو بھرپور پذیرائی، اہلِ ادب نے روشن مستقبل کی نوید سنا دی

کلرسیداں(صنوبر کیانی) کلرسیداں سے تعلق رکھنے والی نوجوان شاعرہ اور طالبہ طیبہ نور دختر خالد محمود کی دو غزلیں ان دنوں نوجوانوں، ادبی حلقوں اور سوشل میڈیا پر غیرمعمولی پذیرائی حاصل کر رہی ہیں۔ سماجی ناانصافی، ظلم، عوامی مسائل اور اصلاحِ معاشرہ جیسے موضوعات پر مبنی ان کا فکر انگیز کلام اپنے منفرد اسلوب، مؤثر اندازِ بیان اور گہرے پیغام کے باعث توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

"حکمرانوں کے نام” کے عنوان سے لکھی گئی غزلوں میں شاعرہ نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ناانصافی، ظلم اور عام آدمی کو درپیش مشکلات پر درد مندانہ انداز میں سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے اشعار میں انصاف، مساوات، انسانی اقدار اور سماجی اصلاح کا واضح پیغام نمایاں ہے، جسے اہلِ ادب نے سراہتے ہوئے نوجوان نسل کے لیے مثبت ادبی رجحان قرار دیا ہے۔

طیبہ نور اس وقت گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج برائے خواتین، کلرسیداں کی طالبہ ہیں۔ کم عمری میں سنجیدہ سماجی موضوعات پر پختہ فکر کے ساتھ شاعری کرنا ان کی غیرمعمولی ادبی صلاحیتوں کا عکاس ہے۔

ادبی شخصیات کا کہنا ہے کہ اگر طیبہ نور اسی جذبے، مطالعے اور محنت کے ساتھ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارتی رہیں تو مستقبل میں اردو ادب میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں اور اپنے قلم کے ذریعے معاشرے میں مثبت شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔