جی ٹین پاسپورٹ آفس میں ٹاؤٹ مافیا کا منظم نیٹ ورک بے نقاب، 3 ملزمان گرفتار، اہلکار کی ملی بھگت سامنے آگئی

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی کارروائی، خیبرپختونخوا کے شہریوں سے جعلی پتے پر ترجیحی پاسپورٹ کے نام پر فی کیس 20 ہزار روپے وصول کیے جاتے رہے، اہلکار کے خلاف منی ٹریل بھی سامنے آگئی

اسلام آباد (رپورٹ:اظہار خان نیازی)فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے جی ٹین پاسپورٹ آفس کے باہر سرگرم ٹاؤٹ اور ایجنٹ مافیا کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کو ایمرجنسی اور ترجیحی بنیادوں پر پاسپورٹ بنوانے کے نام پر لوٹنے والے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔ کارروائی کے دوران تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ پاسپورٹ آفس کے ایک اہلکار کی مبینہ ملی بھگت بھی سامنے آگئی ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر مجاز اتھارٹی سے منظوری کے بعد ٹارگٹڈ آپریشن کیا گیا، جس میں مرکزی ملزم محمد مزمل کو گرفتار کیا گیا۔ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ ملزم بالخصوص خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو اسلام آباد کے جعلی رہائشی پتے پر ترجیحی بنیادوں پر پاسپورٹ بنوانے کے عوض فی کیس 20 ہزار روپے وصول کرتا تھا۔

ملزم کی نشاندہی پر دو مزید ملزمان نصیر احمد اور محمد تصور کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے موبائل فونز کی فرانزک جانچ سے انکشاف ہوا کہ نصیر احمد واٹس ایپ کے ذریعے شہریوں کے ٹوکن نمبرز پاسپورٹ آفس کے اہلکار رضا کو بھیجتا تھا، جو جواباً باکس آئی ڈیز فراہم کر کے پاسپورٹ درخواستوں کی ترجیحی پراسیسنگ ممکن بناتا تھا۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ پاسپورٹ آفس کا اہلکار رضا مبینہ طور پر ہر کیس کے عوض بھاری رقوم ایزی پیسہ اکاؤنٹ کے ذریعے وصول کرتا رہا، جس سے اس کے اور نیٹ ورک کے درمیان مالی لین دین کے واضح شواہد اور منی ٹریل سامنے آئی ہے۔

ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے مزید تفتیش کے لیے دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ ادارے کے مطابق پاسپورٹ آفس کے اہلکار رضا اور دیگر ممکنہ سہولت کاروں کے کردار کا تعین بھی جاری تفتیش میں کیا جائے گا۔

ایف آئی اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی سرکاری خدمت کے حصول کے لیے ٹاؤٹس یا ایجنٹوں سے رابطہ کرنے کے بجائے متعلقہ سرکاری ادارے سے براہِ راست رجوع کریں اور ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کی فوری اطلاع ایف آئی اے کو دیں۔ مزید تفتیش جاری ہے۔