غیر اخلاقی اسٹیج ڈراموں کے ذمہ دار آج اصلاح کےدعویدار بن گئے، عاصمہ بٹ

راولپنڈی(سٹی رپورٹر)

غیر اخلاقی اسٹیج ڈراموں کے ذمہ دار آج اصلاح کےدعویدار بن گئے، عاصمہ بٹ

فیملی تھیٹر پریس کانفرنسوں سے نہیں، معیاری کام سے فروغ پاتا ہے، عاصمہ بٹ

معروف ہدایت کارہ، مصنفہ اور ڈولفن کمیونیکیشن کی چیف ایگزیکٹو عاصمہ بٹ نے کہا کہ غیر اخلاقی اسٹیج ڈراموں کے خلاف صرف پریس کانفرنسیں کافی نہیں بلکہ عملی کام، معیاری تخلیقات اور مسلسل جدوجہد ہی اسٹیج ڈرامے کو اس کا کھویا ہوا وقار واپس دلا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیملی تھیٹر پریس کانفرنسوں سے نہیں بلکہ فن سے وابستگی، لگن، جنون اور اخلاقی و ثقافتی اقدار کی پاسداری سے فروغ پاتا ہے۔

اپنے اہم بیان میں عاصمہ بٹ نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے فلم انڈسٹری کے احیاء کے لیے کیے جانے والے اقدامات خوش آئند ہیں، تاہم اسٹیج ڈرامے کی بحالی کے لیے بھی سنجیدہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج فیملی ڈرامے کی بات کرنے والے کئی افراد ماضی میں انہی غیر اخلاقی کمرشل ڈراموں کا حصہ رہے ہیں جن پر وہ آج پریس کانفرنس کے ذریعے تنقید کر رہے ہیں۔ ان کے بقول یہ رویہ کھلے تضاد اور دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈولفن کمیونیکیشن گزشتہ 19 برسوں سے اسٹیج ڈراموں میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور غیر اخلاقی رجحانات کے خلاف مسلسل عملی جدوجہد کر رہی ہے۔ ادارے نے کبھی کمرشل یا غیر اخلاقی ڈرامے پیش نہیں کیے بلکہ پاکستان کے بڑے شہروں سمیت بین الاقوامی سطح پر معیاری فیملی تھیٹر پیش کرکے ملکی ثقافت، اخلاقی اقدار اور مثبت تشخص کو فروغ دیا۔عاصمہ بٹ نے کہا کہ انہوں نے اپنی فنی جدوجہد کے دوران کبھی حکومت سے خصوصی مراعات یا مطالبات نہیں کیے بلکہ ہر مشکل کا مقابلہ اپنے کام سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر میں آرٹس کونسلوں کے معیاری ہال موجود ہیں، اس لیے اگر کوئی واقعی فیملی تھیٹر کرنا چاہتا ہے تو اسے پریس کانفرنسوں کے بجائے معیاری ڈرامے پیش کرکے اپنی صلاحیت ثابت کرنی چاہیے۔انہوں نے لاہور میں پریس کانفرنس کرنے والے فنکاروں کو راولپنڈی آرٹس کونسل میں معیاری فیملی ڈرامہ پیش کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر ڈرامہ واقعی باوقار اور ہماری ثقافتی روایات کا عکاس ہو تو کسی ادارے کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں بنتی۔انہوں نے کہا کہ وہ خود الحمراء سمیت مختلف آرٹس کونسلوں میں متعدد کامیاب فیملی ڈرامے پیش کر چکی ہیں اور جلد ایک نئے ڈرامے کے ساتھ الحمراء آرٹس کونسل میں دوبارہ حاضر ہوں گی، جس کے لیے انہیں کبھی پریس کانفرنس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔عاصمہ بٹ نے کہا کہ اسٹیج ڈراموں کے اختتام پر خواتین کے رقص اور غیر اخلاقی مناظر نے خاندانوں کو تھیٹر سے دور کر دیا ہے۔ اگر اسٹیج ڈرامے کا وقار، اعتماد اور خاندانی ماحول بحال کرنا ہے تو سب سے پہلے فحاشی اور غیر اخلاقی عناصر سے مکمل لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سستی شہرت حاصل کرنے کے بجائے فنکار اپنے فن اور کردار سے اپنی پہچان بنائیں اور پاکستان کی ثقافتی روایات کے مطابق معیاری تفریح فراہم کریں۔انہوں نے مزید اعلان کیا کہ اگست میں فیملی تھیٹر فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ معروف صوفی شاعر امیر خسرو کی زندگی پر مبنی نیا اسٹیج ڈرامہ بھی جلد الحمراء آرٹس کونسل میں پیش کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔