جاپان کے تعاون سے ایف آئی اے کی بارڈر مینجمنٹ مزید مضبوط، جدید آلات، خصوصی گاڑیاں اور تربیتی سہولیات فراہم

آئی او ایم کے چار سالہ منصوبے کے تحت 21 آپریشنل مراکز کو جدید نظام منتقل، 150 سے زائد افسران اور 200 سے زائد متعلقہ اہلکاروں کی خصوصی تربیت مکمل

پشاور(خالد خان) جاپان کی مالی معاونت سے جاری چار سالہ منصوبے کے تحت انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو جدید بارڈر مینجمنٹ کے آلات، خصوصی ٹرانسپورٹ گاڑیاں اور تربیتی سہولیات فراہم کر دی ہیں، جس سے انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی امیگریشن، سائبر جرائم اور دیگر بین الاقوامی جرائم کے خلاف کارروائیوں کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
اس سلسلے میں ایف آئی اے ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان میں جاپان کے سفیر اکاماتسو شوئیچی، آئی او ایم پاکستان کی چیف آف مشن میو ساتو، ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور، جاپانی سفارت خانے، آئی او ایم اور ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
منصوبے کے تحت ایف آئی اے کو جدید بائیومیٹرک نظام، کمپیوٹرائزڈ اور آئی ٹی آلات، جدید نگرانی کے نظام، مواصلاتی نظام اور شمسی توانائی کے نظام فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ سہولیات ملک بھر میں ایف آئی اے کے 21 آپریشنل مراکز، بشمول ہیڈکوارٹر میں قائم نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، تک پہنچا دی گئی ہیں، جہاں سے انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل مکانی، سائبر جرائم اور دیگر بین الاقوامی جرائم کی نگرانی اور انسداد مزید مؤثر انداز میں کیا جا سکے گا۔
آئی او ایم نے اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر واپس آنے والے پاکستانی شہریوں کی محفوظ، باوقار اور بروقت معاونت کے لیے تین خصوصی ٹرانسپورٹ وینز بھی ایف آئی اے کے حوالے کیں۔
منصوبے کے تحت ایف آئی اے ٹریننگ اکیڈمی کی بھی جدید خطوط پر تزئین و آرائش کی گئی، جو مارچ 2026 میں مکمل ہوئی۔ اکیڈمی میں جدید آئی ٹی انفراسٹرکچر، بہتر سکیورٹی نظام اور جدید تربیتی کلاس رومز قائم کیے گئے ہیں۔ یہ اکیڈمی ہر سال تقریباً ایک ہزار ایف آئی اے افسران کو تربیت فراہم کرتی ہے، جس سے ادارے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
منصوبے کے دوران 150 سے زائد ایف آئی اے افسران کو جدید بارڈر مینجمنٹ، سفری دستاویزات اور بائیومیٹرک تصدیق، تحقیقات اور انسانی حقوق پر مبنی طریقہ کار کی خصوصی تربیت دی گئی، جبکہ ماسٹر ٹرینرز بھی تیار کیے گئے جن میں خواتین افسران شامل ہیں تاکہ ادارہ مستقبل میں اپنی تربیتی استعداد برقرار رکھ سکے۔ اس کے علاوہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی کے متاثرین کی شناخت، اسکریننگ اور معاونت کے حوالے سے ایف آئی اے، صوبائی پولیس اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد افراد کو بھی تربیت فراہم کی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ پیچیدہ بارڈر مینجمنٹ اور بین الاقوامی جرائم سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی مزید مضبوطی سے ایف آئی اے کی آپریشنل صلاحیتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔
پاکستان میں جاپان کے سفیر اکاماتسو شوئیچی نے کہا کہ سکیورٹی اور انسانی حقوق ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط، باصلاحیت اور انسان دوست بارڈر مینجمنٹ ہی ریاست اور شہریوں دونوں کے تحفظ کی ضمانت ہے اور جاپان مستقبل میں بھی پاکستان کے ساتھ اس نوعیت کے تعاون کو جاری رکھے گا۔
آئی او ایم پاکستان کی چیف آف مشن میو ساتو نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں بارڈر مینجمنٹ صرف سرحدی نقل و حرکت تک محدود نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی روابط، علاقائی تعاون اور انسانی وقار کے تحفظ سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان کی معاونت سے پاکستان کے متعلقہ اداروں کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جاپان، آئی او ایم اور ایف آئی اے کے درمیان یہ تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا تاکہ پاکستان میں محفوظ، جدید اور انسانی حقوق سے ہم آہنگ بارڈر مینجمنٹ کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔