نوجوان نسل کو علم، ادب، ثقافت اور قومی اقدار سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے، سیدہ نوشین افتخار

نسلِ نو ادبی میلہ نوجوانوں کیلئے علم، ادب، مکالمے اور تخلیقی اظہار کا مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا، چیئرپرسن قائمہ کمیٹی

اسلام آباد (اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی چیئرپرسن سیدہ نوشین افتخار نے کہا ہے کہ نوجوان نسل کو علم، ادب، ثقافت اور قومی اقدار سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے، نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، کتاب دوستی، مطالعہ اور تخلیقی اظہار نوجوانوں میں شعور، برداشت، تحقیق اور مثبت سوچ کو فروغ دیتے ہیں جو مضبوط، باوقار اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے زیر اہتمام ’’نسلِ نو ادبی میلہ‘‘ کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیدہ نوشین افتخار نے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف اور ان کی ٹیم کو بامقصد ادبی میلے کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 79ویں یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پر ادبی میلے کا انعقاد اس امر کا مظہر ہے کہ قومیں صرف معاشی ترقی سے نہیں بلکہ اپنی زبان، ادب، ثقافت اور فکری ورثے سے بھی اپنی شناخت برقرار رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں سے نوجوان شاعروں، ادیبوں، طلبہ اور ادب سے محبت رکھنے والے افراد کی میلے میں شرکت پاکستان کے روشن مستقبل کی امید ہے۔ پاکستان کا لسانی اور ثقافتی تنوع قومی اثاثہ ہے، اردو کے ساتھ تمام علاقائی زبانیں مشترکہ ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں، ان کے فروغ اور تحفظ کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کمال فن ایوارڈ کے تمام وصول کنندگان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ادبی خدمات نئی نسل کیلئے مشعل راہ ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ علم و ادب کی خدمت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ سیدہ نوشین افتخار نے کہا کہ نوجوانوں کیلئے ادبی، ثقافتی اور تعلیمی مواقع پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کو مثبت اور تعمیری سمت دی جاسکے، نوجوانوں کو جدید علوم کے ساتھ اپنی تہذیب، تاریخ، ادب اور قومی اقدار سے بھی جوڑنا ہوگا کیونکہ یہی عناصر ان کی شخصیت اور قومی شناخت کو مضبوط بناتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کریں، قلم سے اپنا رشتہ مضبوط بنائیں، مثبت سوچ کو فروغ دیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور مثبت تشخص کیلئے بروئے کار لائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’’نسلِ نو ادبی میلہ‘‘ نوجوانوں کیلئے علم، ادب، مکالمے اور تخلیقی اظہار کا مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا جبکہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز ادب و ثقافت کے فروغ کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔