پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال اور سپارک کا اجلاس، تعلیمی اداروں کے اطراف تمباکو مصنوعات کی فروخت و نمائش پر مؤثر نگرانی، ٹیکس میں اضافے اور قوانین پر عملدرآمد مضبوط بنانے پر زور
اسلام آباد(اظہار خان نیازی) پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال اور سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس ہوا جس میں بچوں کے تحفظ کے لیے تمباکو نوشی اور نئی نکوٹین مصنوعات کے خلاف اقدامات مزید مؤثر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات اور پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال کے وفاقی رابطہ کار ڈینیال چوہدری، رکن قومی اسمبلی نے کی۔ اجلاس میں بچوں کو تمباکو اور نئی نکوٹین مصنوعات، خصوصاً برقی سگریٹ اور نکوٹین پاؤچز سے محفوظ رکھنے کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ڈینیال چوہدری نے کہا کہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں تمباکو اور نکوٹین مصنوعات کے مضر صحت اثرات کے حوالے سے آگاہی بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔ اجلاس میں تمباکو مصنوعات پر صحت سے متعلق انتباہات کو مزید مؤثر بنانے، تعلیمی اداروں کے اطراف تمباکو مصنوعات کی فروخت اور نمائش کو منظم کرنے، تمباکو پر عائد ٹیکس میں اضافے، تمباکو اسمگلنگ کی روک تھام اور موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے امور کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے بچوں کو مرکز بنا کر آگاہی مہمات شروع کرنے اور تمباکو نوشی کے صحت پر مرتب ہونے والے خطرناک اثرات سے متعلق مؤثر عوامی پیغام رسانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اجلاس میں پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال اور سپارک کے درمیان آگاہی اور پارلیمانی سطح پر رابطہ کاری کے لیے تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ سپارک ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ متعلقہ آگاہی مواد اور تصویری صحت انتباہات کے حوالے سے علاقائی تقابلی جائزہ بھی شیئر کرے گا۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی تمباکو کنٹرول اقدامات کے حوالے سے آگاہی اور استعداد بڑھانے کے لیے خصوصی بریفنگ اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا۔ شرکاء نے بچوں کے لیے آگاہی مواد کی تشہیر کے سلسلے میں پیمرا کے ساتھ رابطے اور تمباکو کنٹرول اقدامات پر مؤثر عملدرآمد کے لیے متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اجلاس میں پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال اور سپارک نے بچوں کو تمباکو اور نکوٹین کی لت سے محفوظ رکھنے اور تمباکو کنٹرول کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔





