نوجوان پارلیمنٹرینز فورم اور سپارک کا اجلاس، تعلیمی اداروں کے اطراف تمباکو مصنوعات کی فروخت و نمائش روکنے، ٹیکس بڑھانے اور اسمگلنگ کی روک تھام پر اتفاق
اسلام آباد (اظہار خان نیازی) نوجوان پارلیمنٹرینز فورم اور سوسائٹی فار پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس ہوا جس میں نوجوانوں کو تمباکو اور نئی نکوٹین مصنوعات، بالخصوص ویپنگ اور نکوٹین پاؤچز کی لت سے محفوظ رکھنے کیلئے تمباکو کنٹرول کے اقدامات مزید مؤثر بنانے پر غور کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت نوجوان پارلیمنٹرینز فورم کی صدر اور رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار نے کی جبکہ فورم کے جنرل سیکرٹری نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے مشترکہ صدارت کی۔ اجلاس میں نوجوانوں کو تمباکو اور نکوٹین کی لت سے بچانے کیلئے مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکاء نے طلبہ، والدین اور اساتذہ میں آگاہی بڑھانے، تمباکو مصنوعات پر صحت سے متعلق انتباہات کو مزید مؤثر بنانے، تعلیمی اداروں کے اطراف تمباکو مصنوعات کی فروخت اور نمائش کو منظم کرنے، تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ، تمباکو اسمگلنگ کی روک تھام اور موجودہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں بچوں اور نوجوانوں کیلئے خصوصی آگاہی مہمات چلانے اور تمباکو نوشی کے مضر صحت اثرات سے متعلق مؤثر عوامی پیغام رسانی پر بھی زور دیا گیا۔ نوجوان پارلیمنٹرینز فورم اور سپارک نے آگاہی اور پارلیمانی رابطہ کاری کے حوالے سے مشترکہ اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ سپارک ارکان پارلیمنٹ کو تمباکو کنٹرول سے متعلق آگاہی مواد اور تصویری صحت انتباہات کے حوالے سے علاقائی تقابلی جائزہ فراہم کرے گا، جبکہ پارلیمنٹرینز کیلئے تمباکو کنٹرول اقدامات سے متعلق خصوصی بریفنگ سیشن بھی منعقد کیا جائے گا۔ اجلاس میں نوجوانوں کیلئے آگاہی مواد کی تیاری اور نشر و اشاعت کے سلسلے میں پیمرا سے رابطہ کرنے اور تمباکو کنٹرول قوانین پر مؤثر عملدرآمد کیلئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو تمباکو اور نکوٹین کی لت سے محفوظ رکھنے اور تمباکو کنٹرول کی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کیلئے مشترکہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔





