داؤدخیل(ضیاءنیازی سے)ہمتِ مرداں، مددِ خدا! داؤد خیل کے غیور جوان کی شاندار مثال ایسے نوجوان داؤدخیل کے برینڈ ہوتے ہیں
گزشتہ روز عبداللہ نامی شخص نہر تھل میں گر گیا اور ڈوبنے لگا داؤد خیل اڈا المرتضی ہسپتال کے قریب نہر کی پٹڑی پر ایک بزرگ کا پاؤں پھسلنے کے باعث وہ نہر میں جا گرا اور پانی کے تیز بہاؤ میں ڈوبنے لگا۔ المرتضیٰ ہسپتال کے سامنے لوگوں کے شور مچانے پر وہاں موجود ایک باہمت جوان جمال خان نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر فوراً نہر میں چھلانگ لگا دی۔ لیکن حوصلے اور انسانیت کے جذبے نے ناممکن کو بھی ممکن بنا دیا۔ جمال خان نے اپنی ہمت سے بزرگ کو ڈوبنے سے بچایا اور محفوظ طریقے سے نہر سے باہر نکال لیا۔داؤد خیل کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے غیور اور باہمت لوگ ہمیشہ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے پیش پیش رہتے ہیں۔ اس سے قبل بھی داودخیل کے نوجوانوں نے جناح بیراج اور نہر تھل سے بہت ڈوبنے والے افراد کو اپنی جانوں پر کھیل کر ان کی جان بچائی ہےاہلیان داؤدخیل نے جمال خان کی بہادری پر انہیں خراج تحسین پیش کیا کہ ایسے نوجوان شہر کا سرمایہ ہوتے ہیں برینڈ ہوتے ہیں





