وائی پی ایف کی زیرمیزبانی دستوری سِوک لیبز کے شرکا کا پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ، طلبہ کو آئین، پارلیمان اور جمہوری نظام پر بریفنگ
اسلام آباد(اظہار خان نیازی) نوجوان پارلیمنٹرینز فورم کی صدر اور رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار نے کہا ہے کہ نوجوانوں میں آئینی شعور اور ذمہ دار شہریت کا فروغ انتہائی اہم ہے، شہریوں کو آئین سمجھنے کے ساتھ قانون کی بالادستی اور اس پر عملدرآمد میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں دستوری سِوک لیبز کے شرکا کے لیے پارلیمنٹ سے آگاہی کے خصوصی اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے سیدہ نوشین افتخار نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کے معاملات کو ایسے سمجھوتوں کے ذریعے حل نہیں کیا جانا چاہیے جن سے ذمہ دار افراد قانونی احتساب سے بچ جائیں، قانون کی حکمرانی جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
اجلاس کا انعقاد نوجوان پارلیمنٹرینز فورم نے ایڈلیٹیکا کے اشتراک سے کیا، جس میں بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں نوجوان پارلیمنٹرینز فورم کے صدر سیدہ نوشین افتخار اور جنرل سیکرٹری نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے طلبہ سے گفتگو کی، جبکہ نظامت قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے خصوصی سیکرٹری خصوصی اقدامات سید شمون ہاشمی نے کی۔
شرکا کو آئین پاکستان، پارلیمان کی تشکیل، بنیادی حقوق، تعلیم کے حق اور عوام کی سماجی و معاشی بہبود سے متعلق آئینی دفعات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ طلبہ کو نوجوان پارلیمنٹرینز فورم، ویمنز پارلیمنٹری کاکس، پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال اور پائیدار ترقیاتی اہداف سے متعلق پارلیمانی ٹاسک فورس کے کردار اور ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
سیدہ نوشین افتخار نے نوجوان پارلیمنٹرینز فورم کے مقاصد اور سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فورم نوجوان اراکین پارلیمنٹ کو نوجوانوں سے براہ راست رابطے کا پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی وژن کے مطابق وائی پی ایف کے صوبائی ابواب کے قیام کے لیے صوبائی و قانون ساز اسمبلیوں کے دورے کیے جا رہے ہیں، جبکہ ملک کی مختلف جامعات میں یوتھ کچہریاں بھی منعقد کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے سماجی ذرائع ابلاغ کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے طلبہ کو جھوٹی معلومات، غیر مصدقہ بیانیوں اور جذباتی مقبولیت پسندی کے منفی اثرات سے محتاط رہنے کی ہدایت کی۔
نوجوان پارلیمنٹرینز فورم کے جنرل سیکرٹری نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جو طلبہ محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کرکے اپنے کیریئر بناتے اور معاشرے کی بہتری کے لیے کردار ادا کرتے ہیں، وہ ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال کر معرکہ حق میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے بلوچستان کے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ریاست پاکستان سے نفرت پر مبنی بیانیوں کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے لسانی پروپیگنڈے اور انتہاپسند قوم پرستی سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان مختلف برادریوں اور طبقات کا مسکن ہے۔
نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ سماجی ذرائع ابلاغ کو مثبت اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کیا جائے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو علم، تعمیری مکالمے، قومی یکجہتی اور مثبت بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔
اجلاس کے دوران سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی، جس میں طلبہ نے آئینی دفعات کی تشریح اور نوجوانوں سے متعلق عصری امور پر اراکین پارلیمنٹ سے سوالات کیے اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
تقریب کے اختتام پر طلبہ میں ان کے جامعاتی منصوبوں پر انعامات تقسیم کیے گئے۔ ان منصوبوں کے موضوعات میں آئین، اقلیتی حقوق اور عوامی مسائل شامل تھے۔ انعامات سیدہ نوشین افتخار اور نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے تقسیم کیے۔





