بااثر افراد پر اسکول کی تعمیر میں رکاوٹیں ڈالنے، توڑ پھوڑ اور ریکارڈ و سولر سسٹم لے جانے کا الزام، پرنسپل بینظیر راجڑ عدالت پہنچ گئیں، 250 بچوں کا مستقبل داؤ پر لگنے کا خدشہ
جامشورو (بیورو رپورٹ) مانجھند تحصیل کے علاقے کھاسائی میں ایلیمنٹری اسکول کی عمارت کی تعمیر میں مبینہ رکاوٹیں ڈالنے، بچوں اور اساتذہ کو ہراساں کرنے اور تعلیمی ادارہ بند کرانے کی کوششوں کے خلاف اسکول کی پرنسپل بینظیر راجڑ نے عدالت سے رجوع کرلیا، انہوں نے سپریم کورٹ کے وکیل آغا کاشف حسین کے توسط سے جامشورو کی عدالت میں درخواست دائر کردی، عدالت کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بینظیر راجڑ نے بتایا کہ انہوں نے 2016ء میں خمیسو شورو سے پلاٹ خرید کر وہاں اسکول تعمیر کیا تھا جبکہ 2025ء میں تاجو شورو سے قانونی معاہدے کے تحت پلاٹ خرید کر پینزا ایجوکیشن سسٹم شروع کیا اور مانجھند تحصیل کے علاقے میں ایلیمنٹری اسکول قائم کیا، ان کے مطابق اسکول میں علاقے کے تقریباً 250 بچے زیر تعلیم ہیں تاہم بعض بااثر افراد جن میں تاج محمد شورو اور خمیسو شورو شامل ہیں مبینہ طور پر اسکول کی عمارت کی تعمیر میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، بینظیر راجڑ نے الزام عائد کیا کہ مختلف اوقات میں اسکول پر حملے اور توڑ پھوڑ کی گئی جبکہ اسکول کا سولر سسٹم اور ریکارڈ بھی مبینہ طور پر اٹھا کر لے جایا گیا، انہوں نے کہا کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور مسلسل ہراساں کیا جارہا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ خمیسو شورو، تاجو شورو اور بعض دیگر بااثر افراد مبینہ طور پر اسکول کی تعلیمی سرگرمیوں میں مداخلت کررہے ہیں اور انہیں بعض بااثر عناصر کی مبینہ حمایت بھی حاصل ہے، پرنسپل کے مطابق مسلسل دھمکیوں اور خوف کی فضا کے باعث کئی بچوں نے اسکول آنا چھوڑ دیا ہے جس سے ان کی تعلیم شدید متاثر ہورہی ہے، معاملے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر جامشورو اور ایس ایس پی جامشورو کو بھی درخواستیں دی گئی ہیں تاہم تاحال کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں ہوسکی، بینظیر راجڑ کا کہنا تھا کہ عدالت سے رجوع کرنے کا مقصد بچوں، اساتذہ اور اسکول کو تحفظ فراہم کرانا اور تعلیمی سرگرمیاں بلاخوف جاری رکھنا ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس فوری طور پر معاملے کا نوٹس لے، اسکول کو تحفظ فراہم کیا جائے، مبینہ دھمکیوں، ہراساں کرنے، توڑ پھوڑ اور سامان و ریکارڈ لے جانے کے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور علاقے کے 250 سے زائد بچوں کا تعلیمی مستقبل محفوظ بنایا جائے، ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں، انتظامیہ کو چاہیے کہ بااثر افراد کے دباؤ سے بالاتر ہوکر قانون کے مطابق کارروائی کرے اور اسکول، بچوں اور اساتذہ کو مکمل تحفظ فراہم کرے۔





