جاپان میں پاکستانیوں کو استعمال شدہ گاڑیاں برآمد کرنے والی کمپنی دیوالیہ

حمزہ انٹرنیشنل کے کل واجبات 11 ارب 10 کروڑ ین، اپریل میں تمام ملازمین فارغ کر دیئے گئے، کمپنی غیر فعال ہوگئی

ٹوکیو (نمائندہ خصوصی) جاپان کے شہر اویاما میں قائم حمزہ انٹرنیشنل کمپنی لمیٹڈ کو 7 اگست کو اوتسونومیا ڈسٹرکٹ کورٹ نے دیوالیہ قرار دے دیا، عدالت نے سَگیٹا اکیکو ایڈووکیٹ کو دیوالیہ پن کا ٹرسٹی مقرر کیا ہے۔

جاپانی ذرائع کے مطابق کمپنی کے کل واجبات تقریباً 11 ارب 10 کروڑ ین ہیں۔ حمزہ انٹرنیشنل جاپان میں نیلامی کے ذریعے استعمال شدہ گاڑیاں خرید کر ان کی گاڑیوں کے پرزہ جات سمیت پاکستان اور دیگر بیرون ملک منڈیوں کو برآمد کرتی تھی۔

کمپنی کے جاپانی کاروباری ریکارڈ کے مطابق حمزہ انٹرنیشنل کمپنی لمیٹڈ کا پتہ توچیگی صوبے کے اویاما شہر، مکو نو 942 نمبر 6 درج ہے، جبکہ اس کا بنیادی کاروبار استعمال شدہ گاڑیوں کی برآمد اور فروخت بتایا گیا ہے۔ کمپنی کا سرمایہ ایک کروڑ 50 لاکھ ین اور ملازمین کی تعداد 15 درج تھی۔

دستیاب کمپنی ریکارڈ کے مطابق حمزہ انٹرنیشنل کے نمائندہ ڈائریکٹر کے طور پر ندیِم حافظ شاہد جبکہ صدر اور ڈائریکٹر کے طور پر نثار احمد کے نام درج تھے۔

کمپنی کے اہم سپلائرز میں آرائی آٹو آکشن، یو ایس ایس اور ایم ٹو شامل تھے جبکہ اہم خریداروں میں آٹو میکس ایل ڈی اے اور ٹوکیو کارز سی سی کے نام درج ہیں۔ کمپنی کے کاروباری لین دین کے لیے مٹسوئی سومیتومو بینک، میزوہو بینک، توچیگی بینک، گنما بینک، تسکوبا بینک، آشیکاگا بینک اور جونکو بینک کی مختلف شاخوں سے بینکاری روابط بھی درج تھے۔

کمپنی کی اگست 2024 میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران فروخت تقریباً 3 ارب 75 کروڑ ین رہی، تاہم بیرون ملک منڈیوں میں قیمتوں کے بڑھتے ہوئے مسابقت کے باعث کمپنی کو تقریباً 21 کروڑ 90 لاکھ ین کا نقصان اٹھانا پڑا۔

حمزہ انٹرنیشنل 2002 میں جاپان کے شہر اویاما میں قائم ہوئی تھی اور کمپنی کا کاروبار پاکستان سمیت مختلف بیرون ملک منڈیوں تک پھیلا ہوا تھا۔ کمپنی کی جانب سے جاپان کی گاڑیوں کی نیلامیوں سے استعمال شدہ گاڑیاں خرید کر انہیں پاکستان سمیت دیگر ممالک میں برآمد کیا جاتا تھا جبکہ استعمال شدہ گاڑیوں کے پرزہ جات کی برآمد بھی کاروبار کا حصہ تھی۔

ذرائع کے مطابق حمزہ انٹرنیشنل نے بیرون ملک ذیلی ادارے قائم کرنے کے لیے بھاری قرضے حاصل کیے، تاہم ذیلی اداروں کے قیام کا منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کرسکا۔ مئی 2025 تک مالیاتی اداروں کو ادائیگیاں بھی بقایا ہوچکی تھیں جس کے باعث کمپنی کی مالی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔

صورتحال مزید خراب ہونے پر اپریل 2026 میں کمپنی نے اپنے تمام ملازمین کو ملازمت سے فارغ کردیا، جس کے بعد کمپنی کی کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہوگئیں اور کمپنی غیر فعال ہوگئی۔

دوسری جانب حمزہ انٹرنیشنل کو وزیراعظم پاکستان کے جاپان میں مشیر برائے اوورسیز پاکستانی حافظ شاہد گگھ سے منسوب کیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، تاہم کمپنی کے دستیاب جاپانی ریکارڈ میں نمائندہ ڈائریکٹر کا نام ندیِم حافظ شاہد درج ہے۔ اس لیے کسی سیاسی یا سرکاری عہدے دار کی کمپنی کی ملکیت یا براہ راست وابستگی کی حتمی تصدیق متعلقہ سرکاری یا عدالتی ریکارڈ سے ضروری ہوگی۔

عدالت کی جانب سے دیوالیہ پن کا حکم جاری ہونے کے بعد کمپنی کے اثاثوں اور واجبات کی قانونی کارروائی سَگیٹا اکیکو ایڈووکیٹ کی نگرانی میں آگے بڑھائی جائے گی۔