داؤدخیل رورل ہیلتھ سینٹر تباہی کے دہانے پر نہ علاج معالجے کی سہولیات نہ ڈاکٹر

داؤدخیل(ضیاءنیازی سے)
داؤدخیل رورل ہیلتھ سینٹر تباہی کے دہانے پر نہ علاج معالجے کی سہولیات نہ ڈاکٹر۔نہ پیرا میڈیکل سٹاف۔نہ ادویات موجود ہیں رورل ہیلتھ سینٹر میں 24گھنٹے ہو کا عالم ہے گزشتہ روز گولیوں سے زخمی ہسپتال آئے نہ ڈاکٹر تھا نہ ہسپتال میں بجلی تھی اسی طرح روڈ ایکسڈنٹ میں زخمی ہسپتال آئے بس تڑپتے رہتے ہیں کچھ راستے میں دم توڑ جاتے ہیں کچھ خوش نصیب زندہ میانوالی پہنچ جاتے ہیں غریب کہاں جائے کچھ تو رحم کرو اب تو غریب کے لیے علاج بھی نایاب ہو چکا ہے اہلیان داؤدخیل کے سماجی شخصیات تنویر عابد خان۔شیراز ظفر۔شوکت خان۔نعمان خان۔سابق چیرمین زکوۃ کمیٹی حاجی ضیاءاللہ خان۔ماما حق نواز خان۔حنیف آکاش و دیگر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک لاکھ آبادی کا شہر ہے اور گردونواح کے درجنوں علاقہ جات کے مریض آتے تھے لیکن اب تو بس ہسپتال کی بلڈنگ ہے باقی کوئی سہولت میسئر نہیں ہے رورل ہیلتھ سینٹر داؤدخیل کا نام تبدیل کر کے مریم نواز رورل ہیلتھ سینٹر رکھ دیا وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کے نام پر ہسپتال ہو تو کم از کم نام کی ہی لاج رکھ لو گزشتہ رات داؤدخیل کے نواحی علاقہ توحید آباد(گندہ)میں فائرنگ سے تین نوجوان شدید زخمی ہو گے جہنیں اپنی مدد آپ کے تحت فوری رورل ہیلتھ سینٹر داؤدخیل پہنچایا گیا لیکن افسوس کہ رورل ہیلتھ سینٹر میں ڈیوٹی پر ڈاکٹر ہی موجود نہیں تھا ادویات بھی غائب ہیں اور رات کو بجلی بھی بند جرنیٹر بھی عرصہ داراز سے نہیں چلا یہی رورل ہیلتھ سینٹر داؤدخیل جہاں کچھ سال قبل او پی ڈی میں روزانہ ساڑھے تین سو سے لیکر چار سو تک مریض آتے تھے اب تو ہسپتال میں ہو کا عالم ہے کچھ ماہ قبل بہترین ہسپتال کو اکھاڑ کر ٹائلیں اکھاڑ کر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے جبکہ سیمنٹ کی طرف سے بہترین وارڈ بھی موجود تھا لیکن افسوس کہ بس صرف مال کھانے کے چکر میں رورل ہیلتھ سینٹر کو چکر دیکر نئی ٹائلیں لگوا کر لاکھوں روپے چھو منتر ہو گے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نہ ہی آپ کے نام پر قائم ہسپتال میں نہ ڈاکٹر ہیں نہ پیرا میڈیکل سٹاف ہے۔نہ ادویات ہیں یہاں تک کہ دس روپے کی سرنج بھی نایاب ہے اور پھر زخمیوں کو ریسکیو نے ڈی ایچ کیو میانوالی پہنچایا ان کے بعد ایک مریض نصراللہ خان کو سانس کا مسلہ بنا رورل ہیلتھ سینٹر داودخیل لایا گیا لیکن افسوس نہ ڈاکٹر تھا نہ بجلی تھی مریض بے یارو مدد گار تڑپتا رہا اس سے بہتر ہے کہ رورل ہیلتھ سینٹر داؤدخیل کو بند کر کے ملازموں کی ماہانہ لاکھوں روپے کی تنخواہ تو پنجاب حکومت کو بچتی رہے گی ایم پی اے امین اللہ خان آپ کے شہر کی اکلوتی ہسپتال ایک لاکھ آبادی کی عوام کے لیے جس میں نہ ڈاکٹر۔نہ ادویات۔نہ پیرا میڈیکل سٹاف اور بجلی نہ ہو تو ہسپتال میں اندھیروں کا راج ہوتا ہے آپ اپوزیشن میں ہیں تو کم از کم پنجاب اسمبلی میں اس داؤدخیل کی نایاب مریم نواز ہسپتال کو اسمبلی فورم پر آواز اٹھائیں ہسپتال کو ماہانہ لاکھوں روپے دیے جا رہے ہیں لیکن عوام کو کوئی سہولت میسئر نہیں ہے شعبہ ہیلتھ کا شعبہ تباہ ہو چکا ہے