خواتین کے حقوق کے لیے قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے پر زور

ڈبلیو پی سی وفد کا قومی کمیشن برائے حیثیتِ نسواں کا دورہ، حنا جاوید قتل کیس کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دینے کا مطالبہ

اسلام آباد (اظہار خان نیازی) خواتین کی پارلیمانی کاکس کے وفد نے قومی کمیشن برائے حیثیتِ نسواں کا دورہ کیا، جہاں قائم مقام چیئرپرسن نورین بانو لہڑی نے وفد کا استقبال کیا اور کمیشن کے جاری اقدامات، ترجیحات، 2026ء تا 2029ء کے تزویراتی منصوبے، قومی صنفی مساوات ڈیش بورڈ، خواتین کے حقوق سے متعلق دو لسانی آگاہی مواد اور کمیشن میں زیر التوا تقرریوں کے معاملے پر بریفنگ دی۔ سیکرٹری خواتین کی پارلیمانی کاکس ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے قومی کمیشن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوانین اور پالیسیوں کو نچلی سطح پر مؤثر انداز میں نافذ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، پارلیمانی کاکس کی اجتماعی توجہ اس امر پر مرکوز ہونی چاہیے کہ قوانین، پالیسیوں اور پروگراموں کے ثمرات پسماندہ اور کمزور خواتین تک پہنچیں۔

ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تعینات نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی ملازمہ حنا جاوید کے حالیہ بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حنا جاوید کو اس کے شوہر اور گھریلو ملازم نے سسرال کی رہائش گاہ پر بے دردی سے قتل کیا، خواتین پر کسی بھی نوعیت کا تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی پارلیمانی کاکس حنا جاوید کے لیے انصاف کے حصول اور واقعے کی آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔

سیکرٹری خواتین کی پارلیمانی کاکس نے کہا کہ قومی کمیشن برائے حیثیتِ نسواں کو بھی اس معاملے میں اعتماد میں لیا جا رہا ہے تاکہ تحقیقات میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارہ جاتی طریقہ کار بروئے کار لائے جا سکیں اور قتل میں ملوث تمام ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جا سکے۔

وفد کے ارکان نے موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے خواتین پر پڑنے والے غیر متناسب اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور قومی کمیشن برائے حیثیتِ نسواں اور قومی ادارہ برائے قدرتی آفات کے درمیان مزید مؤثر رابطہ کاری پر زور دیا۔ ارکان نے کہا کہ آفات سے نمٹنے کی تیاری، امداد، بحالی اور تعمیر نو کے پروگراموں میں خواتین کی مخصوص ضروریات کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ قدرتی آفات سے متاثرہ خواتین کو بروقت اور مؤثر معاونت فراہم کی جا سکے۔

وفد نے خواتین سے متعلق قانون سازی، پالیسی سازی، بجٹ سازی اور نگرانی کے لیے درست، جامع اور صنفی بنیادوں پر مرتب اعداد و شمار کی دستیابی کو بھی ناگزیر قرار دیا۔ ارکان نے کہا کہ قابل اعتماد اعداد و شمار کی بنیاد پر ہی خواتین کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر قانون سازی اور عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

وفد نے دیہی خواتین پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تعلیم، صحت، انصاف، معاشی مواقع اور اپنے قانونی حقوق سے متعلق معلومات تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ہدفی اقدامات کیے جائیں۔ ارکان نے تجویز دی کہ خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات سے متعلق آگاہی کو پرائمری سطح کے نصاب کا حصہ بنایا جائے جبکہ نکاح کے وقت نکاح نامے کے ذریعے خواتین کو ان کے قانونی حقوق اور تحفظات سے بھی مؤثر انداز میں آگاہ کیا جائے۔

قائم مقام چیئرپرسن قومی کمیشن برائے حیثیتِ نسواں نورین بانو لہڑی نے خواتین کی پارلیمانی کاکس کی جانب سے ادارے کے ساتھ رابطے اور تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی رابطہ کاری، قابل اعتماد صنفی اعداد و شمار، احتساب اور قوانین پر مؤثر عملدرآمد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

خواتین کی پارلیمانی کاکس کے ارکان نے قومی کمیشن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین سے متعلق قانون سازی کو آگاہی، قابل اعتماد اعداد و شمار، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور مؤثر عملدرآمد کے ذریعے عملی شکل دی جائے گی تاکہ خواتین اور بچیوں کی زندگیوں میں حقیقی اور بامعنی بہتری لائی جا سکے۔

وفد میں ارکان قومی اسمبلی صوفیہ سعید شاہ، ہما اختر چغتائی، زہرا ودود فاطمی، نعیمہ کشور خان، تمکین اختر نیازی، ماہ جبین عباسی، نیلم، آسیہ ناز تنولی اور اختر بی بی شامل تھیں۔