افغان شہریوں کو مبینہ جعلی برتھ، ڈیتھ سرٹیفکیٹس جاری کرنے کا اسکینڈل، ایف آئی اے نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا

مزید 8 یونین کونسل سیکرٹری تفتیش میں شامل، ایک گرفتار، اینٹی کرپشن سے انکوائری رپورٹ طلب، مزید گرفتاریاں متوقع

پشاور (خالد خان) افغان شہریوں کو مبینہ طور پر جعلی پاکستانی برتھ سرٹیفکیٹس، ڈیتھ سرٹیفکیٹس اور نکاح نامے جاری کرنے کے مبینہ اسکینڈل میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق مقدمہ نمبر 15/2026 کے تحت مزید آٹھ یونین کونسل سیکرٹریز کو تفتیش میں شامل کر لیا گیا ہے، جبکہ یونین کونسل زکالونی کے سیکرٹری ساجد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور دیگر مبینہ ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق اینٹی کرپشن سے انکوائری رپورٹ طلب کرنے کے لیے باضابطہ خط بھی ارسال کر دیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات کے دوران مزید اہم گرفتاریاں متوقع ہیں۔
دریں اثنا بعض شکایت کنندگان نے الزام عائد کیا ہے کہ این سی 25 عمران آباد، شاہین مسلم ٹاؤن پشاور کے سیکرٹری آصف مبینہ طور پر بے ضابطگیوں میں ملوث رہے اور افغان شہریوں کو 20 سے 30 ہزار روپے رشوت کے عوض برتھ، ڈیتھ سرٹیفکیٹس اور نکاح نامے جاری کیے۔ شکایت کنندگان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مذکورہ سیکرٹری کے خلاف پہلے بھی مختلف انکوائریاں ہو چکی ہیں اور انہیں اینٹی کرپشن حکام طلب کر چکے ہیں۔
شکایت کنندگان نے مزید الزام لگایا ہے کہ ایک بااثر سفارشی شخص، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اس کا تعلق افغانستان کے علاقے جلال آباد کے سوکئی سے ہے، مبینہ طور پر سیکرٹری آصف کو بچانے کی کوششیں کر رہا ہے۔
تاہم واضح رہے کہ مذکورہ الزامات شکایت کنندگان کے بیانات پر مبنی ہیں۔ ایف آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں اور قانون کے مطابق کسی بھی شخص کو عدالت سے جرم ثابت ہونے تک قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا۔