اسلام آباد(سٹی رپورٹر)ادارۂ فروغِ قومی زبان کے زیرِ اہتمام اُردو لغت بورڈ کی تیار کردہ "اُردو لغت (تاریخی اُصول پر) کی جدید و مستند اشاعت” کی پہلی تین جلدوں کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب کے آغاز میں قومی ترانہ پڑھاگیا۔ حافظ انعام الحق نے تلاوتِ کلام پاک اور محمد زکریا شیخ اشرفی نے نعتِ رسول ؐمقبول کی سعادت حاصل کی۔ تقریب کی صدارت وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن جناب اورنگزیب خان کھچی نے کی جبکہ وفاقی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن جناب اسد رحمان گیلانی اور معروف ماہرِ لسانیات ڈاکٹر حاجی محمدرفیق پردیسی مہمانِ خصوصی تھے۔ ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر راشد حمید نے خیر مقدمی کلمات ادا کیے۔ ڈاکٹر غزل یعقوب اور محمد طارق بن آزاد نے نظامت کے فرائض ادا کیے۔صدرِ تقریب اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ اُردو ہماری قومی شناخت اور تہذیبی ورثے کی امین زبان ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ مستند اُردو لغت کی اشاعت قومی علمی سرمایہ ہے جس کے فروغ کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔اُنھوں نے کہا کہ اس لغت کی خوبصورت نستعلیق اشاعت اس بات کا ثبوت ہے کہ اُردو کا سفر آگے بڑھ رہا ہے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اپنے تمام اداروں کے ذریعے اپنے اپنے دائرہ کار میں قابل ِ قدر خدمات انجام دے رہاہے۔ادارۂ فروغِ قومی ز بان ان کاموں میں سب سے نمایاں ہے ۔ اس علمی کام پر حاجی محمد رفیق پردیسی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ادارۂ فروغِ قومی زبان اور اُردو لغت بورڈ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ میں حاجی محمد رفیق پردیسی کو پاکستان کے سب سے بڑے سول ایوار ڈ کے لیے نامزد کرنے کی تجویز بھی دوں گا۔مہمانِ خصوصی اسد رحمان گیلانی نے کہا کہ اُردو لغت کی یہ جدید اشاعت برسوں کی علمی محنت کا ثمر ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ادارۂ فروغِ قومی زبان، قومی زبان کے فروغ اور علمی منصوبوں کی تکمیل میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ جنھوں نے اپنی لغت کو محفوظ کیا اُنھوں نے اپنے علمی ذخائر اور ثقافت کو محفو ظ کیا ۔ اس ادارے نے اُردو کے فروغ میں کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں۔ پروفیسرڈاکٹر محمد سلیم مظہر اور اُن کی پوری ٹیم بلا شبہ اس کامیابی پر مبارک باد کی مستحق ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، ڈائریکٹر جنرل ادارۂ فروغِ قومی زبان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تہذیب و تمدن، اُردو ادب اور ثقافت کے لیے وقت نکالنے والے قابلِ تعریف ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد ہمارے لیڈروں نے زبان و ادب کے حوالے سے جو یہ گیارہ ادارے قائم کیے وہ بہت اہم ہیں اور ادارۂ فروغِ قومی زبان ان میں سے ایک ہے۔ یہ لغت دنیا کی کسی بھی ڈکشنری کے ساتھ مقابلے میں رکھی جائے تو عمدہ قرار دی جائے گی۔ ثقافت کا شعبہ کسی بھی ملک کا سب سے نمایاں شعبہ ہوتا ہے۔ اُردو لغت کی پہلی جلد 1977ء میں اور آخری جلد 2010ء میں چھپی لیکن ہم ان شاء اللہ اب یہ کام جلد مکمل کر لیں گے۔ڈاکٹر راشد حمید نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ برکاتی فاؤنڈیشن کے بانی حاجی محمد رفیق پردیسی کے اس منصوبے کی مالی ذمہ داری اپنے سر لے کر بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے ۔وفاقی حکومت کی سرپرستی میں یہ منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔مہمانِ خصوصی ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی نے کہا کہ تاریخی اُصولوں پر مرتب اُردو لغت تحقیق کے میدان میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس جدید اشاعت سے محققین اور طلبہ کو مستند لسانی مواد تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔ اُنھوں نے کہا کہ آج کی محفل سے احساس ہوا کہ بزرگوں کی محنت کو چھاپنے کی میری یہ نیکی قبول ہوئی اُردو میری ماں ہے اور میں اپنی ماں پر خرچ کررہا ہوں جس کی مجھے خوشی ہے۔ میں نے دنیا دیکھی مگر میرے ملک جیسا کوئی ملک نہیں۔ جناب واجد جواد،ڈاکٹر فاروق عادل،ڈاکٹر عابد سیال،ڈاکٹر حمیرا اشفاق، ڈاکٹر رابعہ کیانی اور ڈاکٹر امجد کلو نے لغت اور زبان کی اہمیت پراپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ تقریب کے اختتام پر جناب محمد رفیق پردیسی اور وفاقی وزیر کے مابین 22 جلدوں کی اشاعت کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ۔حاجی محمدرفیق پردیسی نے تبرکات ،قرآن حکیم کا قیمتی نسخہ اور لغت کی تینوں جلدیں وفاقی وزیر جناب اورنگزیب خان کھچی صاحب کو پیش کی گئی جبکہ وفاقی وزیر جناب اورنگزیب خان کھچی صاحب نے سندِ سپاس حاجی محمد رفیق پردیسی کو دی ۔





