17 سالہ لڑکی کا مرضی کے خلاف شادی کے خدشے سے گھر چھوڑنے کا دعویٰ، قانونی عمر سے متعلق معاملہ بھی توجہ کا مرکز بن گیا
نصیرآباد/بدین (بیورو رپورٹ) خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی رہائشی 17 سالہ صبغا، دختر امجد، نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا بدین کے رہائشی طالب علم محمد رمضان جونیجو سے تقریباً ایک سال قبل فون پر رابطہ ہوا، جو وقت کے ساتھ دوستی اور پھر محبت میں تبدیل ہو گیا۔ دونوں نے باہمی رضامندی سے شادی کا فیصلہ کیا۔
نصیرآباد پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صبغا نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے اہلِ خانہ اس کی مرضی کے خلاف اس کی شادی ایک بڑی عمر کے شخص سے کرنا چاہتے تھے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے وہ گھر سے نکل کر دو روزہ سفر کے بعد بدین پہنچی، جہاں دونوں نے مقامی عدالت میں نکاح کر لیا۔
نو بیاہتا جوڑے نے پریس کانفرنس کے دوران اپنی جان کو خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تحفظ فراہم کرنے اور ان کے فیصلے کا احترام کرنے کی اپیل کی۔
دوسری جانب اس معاملے میں قانونی پہلو بھی زیرِ بحث آ گیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے قانون کے مطابق لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر 16 سال ہے، جس کے تحت 17 سالہ صبغا کی عمر اس حد سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ تاہم، سندھ میں نافذ سندھ چائلڈ میرجز ریسٹرینٹ ایکٹ کے تحت لڑکی اور لڑکے دونوں کے لیے شادی کی کم از کم قانونی عمر 18 سال مقرر ہے، اور سندھ کی حدود میں 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی قانوناً جرم تصور کی جاتی ہے۔
تاحال مقامی انتظامیہ یا متعلقہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ نکاح کی قانونی حیثیت اور دیگر پہلوؤں کا تعین متعلقہ اداروں کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔





