قومی اسمبلی، گلگت بلتستان اسمبلی کے پارلیمانی روابط مزید مضبوط بنانے کیلئے پرعزم، ایاز صادق

 

قانون سازی اور پارلیمانی امور میں گلگت بلتستان اسمبلی کی استعدادِ کار بڑھانے کیلئے تعاون جاری رکھیں گے، اسپیکر قومی اسمبلی

اسلام آباد (اظہار خان نیازی) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی گلگت بلتستان اسمبلی کے ساتھ پارلیمانی روابط کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے، قانون سازی اور پارلیمانی امور میں گلگت بلتستان اسمبلی کی استعدادِ کار بڑھانے کیلئے تعاون جاری رکھا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی ملک کفایت الرحمٰن سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں قومی اسمبلی اور گلگت بلتستان اسمبلی کے درمیان پارلیمانی تعاون، باہمی دلچسپی کے امور اور قانون سازی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے ملک کفایت الرحمٰن کو ڈپٹی اسپیکر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے نئی ذمہ داریوں میں کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ملک کفایت الرحمٰن نے اسپیکر قومی اسمبلی کی نیک خواہشات اور تعاون پر اظہار تشکر کیا۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز کے تحت گلگت بلتستان اسمبلی کے ارکان اور عملے کیلئے تربیتی پروگرامز انتہائی اہم ہیں، ایسے پروگرامز قانون ساز اداروں کی استعدادِ کار میں اضافے اور پارلیمانی روایات کے فروغ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکرز کانفرنس قانون ساز اداروں کے درمیان رابطے، اتفاق رائے اور تجربات کے تبادلے کا مؤثر پلیٹ فارم ہے، اس فورم کے ذریعے پارلیمانی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری خطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے گیم چینجر منصوبہ ہے، گلگت بلتستان جغرافیائی اہمیت کے ساتھ معدنی وسائل اور سیاحت کے شعبوں میں بھی وسیع استعداد رکھتا ہے۔ معدنی وسائل کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس عمل میں عوامی شمولیت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم ملکی معیشت اور سماجی ترقی کیلئے اہم منصوبہ ہے، ایسے منصوبوں سے ملک کی توانائی، پانی اور معاشی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

ملاقات کے دوران ڈپٹی اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی ملک کفایت الرحمٰن نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے مبارکباد، نیک خواہشات اور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا اور پارلیمانی اداروں کے درمیان روابط مزید مستحکم بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔