غیر اہل میڈیکل کالجز کی جانب سے زائد فیس وصولی کا نوٹس، 35 منظور شدہ اداروں کی فیسوں کا جواز اور آڈٹ شدہ مالی گوشوارے طلب، خالی نشستوں کی وجوہات پر ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
اسلام آباد (اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ نے میڈیکل کالجز میں خالی نشستوں، فیسوں میں تفاوت، اداروں کی نگرانی اور ایم ڈی کیٹ کے معاملات پر فوری اقدامات کی ہدایت کردی۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت ہوا جس میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے ایم ڈی کیٹ 2026ء کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا، کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایم ڈی کیٹ 2026ء کا امتحان 20 ستمبر کو منعقد ہوگا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 61 میڈیکل کالجز میں سے 35 ادارے مقررہ معیار پر پورے اترے ہیں، کمیٹی نے ان تمام اداروں کی فیسوں کے جواز، جانچ پڑتال اور آڈٹ شدہ مالی گوشوارے طلب کرلئے جبکہ غیر اہل قرار دیئے گئے اداروں کی جانب سے زائد فیس وصول کرنے اور اپنی ویب سائٹس پر فیس ظاہر کرنے کے معاملے پر بھی تفصیلات طلب کی گئیں۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے بتایا کہ غیر مطابقت رکھنے والے اداروں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں اور نگرانی کا عمل جاری ہے، کمیٹی نے جاری کئے گئے نوٹسز کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ فیسوں میں کسی بھی اضافے کیلئے واضح معیار اور قابل اعتماد شواہد ضروری ہیں، جن میں تعلیمی معیار، تدریسی عملے کی تعداد، بنیادی ڈھانچہ اور آڈٹ شدہ مالی معلومات شامل ہونی چاہئیں۔ میڈیکل کالجز میں خالی نشستوں کے معاملے پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ ایک وسیع مسئلہ ہے جسے صرف فیسوں یا ایم ڈی کیٹ میں اہلیت کی شرح سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، کمیٹی نے خالی نشستوں کی وجوہات جاننے کیلئے نجی میڈیکل کالجز کے معائنے اور ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ کمیٹی نے سرکاری میڈیکل کالجز میں نشستوں کی تعداد بڑھانے کے معاملے پر بھی غور کیا، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے بتایا کہ معائنے کے بعد پنجاب، سابق فاٹا اور بلوچستان کیلئے اضافی نشستیں مختص کی جاچکی ہیں، سندھ کے حوالے سے معاملے پر حکومت سندھ اور متعلقہ نمائندوں کے ساتھ الگ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایسے ادارے جو مطلوبہ معیار برقرار رکھنے میں ناکام ہوں یا مسلسل بڑی تعداد میں نشستیں خالی رہیں ان کے خلاف مناسب ضابطہ جاتی کارروائی کی جائے، حتیٰ کہ منظور شدہ نشستوں پر بھی نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ اجلاس میں ایم ڈی کیٹ کیلئے موجودہ 60 فیصد اہلیت کی حد پر بھی غور کیا گیا اور طلبہ کی میڈیکل تعلیم تک رسائی بڑھانے کیلئے اس حد میں بتدریج کمی کی تجویز زیر بحث آئی تاہم کمیٹی نے تعلیمی معیار برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بی ڈی ایس پروگرام کی مدت چار سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے بتایا کہ پہلے سے زیر تعلیم طلبہ کیلئے مناسب انتظامات کئے جائیں گے۔ کمیٹی نے پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کے امور کا بھی جائزہ لیا، اجلاس کو بتایا گیا کہ نرسنگ اداروں کے معائنے جاری ہیں، معائنہ کاروں کیلئے حقیقی وقت میں معلومات درج کرنے کی سہولت پر مبنی ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے جبکہ شکایات کیلئے الگ پورٹل اور لائسنسنگ کا عمل بھی ڈیجیٹل کردیا گیا ہے۔ کمیٹی نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے ہراسانی سمیت دیگر شکایات کے ازالے پر زور دیا اور اگلا اجلاس نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سابقہ سفارشات کی روشنی میں فارمیسی کونسل بل پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے کہا کہ متعلقہ ضابطہ کار اداروں سے خالی نشستوں، اداروں کے معائنے، فیسوں کے ضابطے اور ملک میں طبی تعلیم کے معیار کے حوالے سے بروقت، شواہد پر مبنی اور نتیجہ خیز اقدامات کی توقع ہے۔





