پاکستان، نیپال میں پارلیمانی روابط اور براہ راست فضائی رابطے کی بحالی پر اتفاق

 

تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سیاحت، ثقافت، آئی ٹی اور عوامی روابط بڑھانے کیلئے اقدامات پر زور

اسلام آباد (اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی پاکستان، نیپال و بھوٹان پارلیمانی دوستی گروپ کے کنوینر ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور نیپال کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے پارلیمانی روابط، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سیاحت، ثقافت، نوجوانوں کے تبادلے اور عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دینا ہوگا، دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی رابطے کی بحالی سے تجارت اور سیاحت سمیت عوامی روابط کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں نیپال کی پاکستان میں سفیر ریٹا دھیتال سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں پاکستان، نیپال دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی روابط کے فروغ اور عوامی سطح پر تبادلوں میں اضافے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں پارلیمانی دوستی گروپ کے ارکان شہزادہ محمد گشتاسب خان، فرح ناز اکبر، شائستہ خان، اسفندیار ایم بھنڈارا، دانیال چوہدری اور ڈاکٹر درشن بھی شریک ہوئے۔

ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے نیپالی سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے درمیان گہرے ثقافتی، تاریخی اور تہذیبی روابط قائم ہیں اور دونوں ممالک نے ہمیشہ دوستانہ تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ پارلیمانی روابط دونوں ممالک کی پارلیمانوں اور عوام کو مزید قریب لانے کے ساتھ تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری، تعلیم، سیاحت، ثقافت، نوجوانوں کے تبادلے، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر زور دیا۔

نیپال کی سفیر ریٹا دھیتال نے گرمجوش خیرمقدم پر اظہار تشکر کرتے ہوئے پاکستان اور نیپال کے دوستانہ تعلقات کو سراہا۔ انہوں نے پارلیمانی روابط مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، سیاحت، تجارت اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں جاری تعاون کا ذکر کیا۔ انہوں نے رابطوں کو آسان بنانے اور کاروباری سطح پر روابط بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ملاقات میں پارلیمانی دوستی گروپس کے ذریعے روابط میں اضافے، وفود کے باہمی دوروں اور آن لائن رابطوں کے فروغ پر اتفاق کیا گیا جبکہ دوطرفہ تجارت اور کاروباری روابط میں اضافے کے وسیع امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

فریقین نے پاکستان اور نیپال کے درمیان براہ راست فضائی رابطے کی بحالی کو اہم قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے ممکنہ اقدامات تلاش کرنے پر زور دیا۔ شرکا نے کہا کہ براہ راست فضائی رابطے کی بحالی سے مذہبی اور مہم جوئی پر مبنی سیاحت، تجارت اور عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

ملاقات میں دونوں ممالک کی مشترکہ ہمالیائی جغرافیائی اہمیت اور کوہ پیمائی کی روایات کا بھی ذکر کیا گیا جبکہ پاکستان اور نیپال میں موجود بدھ مت کے اہم مذہبی مقامات کو سیاحت اور ثقافتی تعاون کے فروغ کیلئے اہم امکانات کا حامل قرار دیا گیا۔

ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے نیپالی سفیر کا تعمیری اور مفید گفتگو پر شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ملاقات پاکستان اور نیپال کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔