ازبکستان میں عالمی اسلامی تہذیبی کانفرنس، پاکستان نے امن، رواداری اور ثقافتی تعاون پر زور دیا

وفاقی وزیر اورنگزیب کھچی کی عالمی شخصیات سے ملاقاتیں، امام کعبہ اور فلسطینی وزیر ثقافت سے تبادلہ خیال، امام بخاریؒ کمپلیکس کا بھی دورہ

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) ازبکستان کے شہروں تاشقند اور سمرقند میں "امن، رواداری اور روشن خیالی کا سفر” کے موضوع پر عالمی اسلامی تہذیبی فورم ازبکستان اور آئیسیسکو (ICESCO) کے اشتراک سے پہلی بین الاقوامی کانفرنس جاری ہے، جس میں تیس سے زائد ممالک کے نمائندے اور مندوبین شریک ہیں۔
پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب کھچی کی قیادت میں دو رکنی وفد کر رہا ہے، جس میں ادارہ فروغِ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر بھی شامل ہیں۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اورنگزیب کھچی نے پاکستان اور ازبکستان کے تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط اور ہمہ جہت بنانے پر زور دیا، جسے شرکاء نے سراہا۔
کانفرنس کے موقع پر وفاقی وزیر نے امام مسجد الحرام شیخ صالح بن عبداللہ بن حمید، فلسطینی وزیر مملکت برائے ثقافت عماد عبداللہ حمدان، آئیسیسکو کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سالم المالک، عالمی اسلامی تہذیبی فورم اور ازبکستان کے ثقافتی اداروں کے سربراہان سمیت مختلف عالمی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں عالم اسلام کے ثقافتی، علمی اور تہذیبی ورثے کے تحفظ، باہمی تعاون اور امن و رواداری کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔
پاکستانی وفد نے سمرقند میں حضرت امام بخاریؒ کے مزار پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور امام بخاری کمپلیکس و میوزیم کا دورہ کیا، جہاں نایاب قرآنی مخطوطات، احادیث اور دیگر اسلامی علمی ذخائر کا مشاہدہ کیا۔ وفد نے اس تاریخی ورثے کے بہترین تحفظ پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔
کانفرنس کے دوران تاجکستان اور ازبکستان کے ممتاز مذہبی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، جن میں اسلامی تہذیب، بین المذاہب ہم آہنگی، امن اور مشترکہ علمی و ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔