غیرت کے نام پر جرگہ، والد، چھ بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں کی مبینہ شرکت، تین چچا زاد بھائیوں کو قتل کی ذمہ داری سونپنے کا دعویٰ
پشاور(خالد خان سے)معروف ٹک ٹاکر عائشہ عرف گلیمنہ کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر قتل کے پس پردہ غیرت کے نام پر منعقد کیے گئے جرگے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق عائشہ عرف گلیمنہ کے آبائی علاقے دیر کے ایک گاؤں میں خاندان کے افراد نے مبینہ طور پر ان کی جانب سے غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے کے الزام پر جرگہ منعقد کیا۔ جرگے میں مبینہ طور پر مقتولہ کے والد، چھ بھائیوں اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے شرکت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جرگے میں مبینہ طور پر عائشہ عرف گلیمنہ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس مقصد کے لیے تین چچا زاد بھائیوں کو مبینہ طور پر قتل کی کارروائی کے لیے نامزد کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عائشہ عرف گلیمنہ کا قتل مبینہ طور پر اسی جرگے کے فیصلے کے تحت کیا گیا۔ تاہم قتل کی اصل وجوہات، جرگے کے فیصلے اور اس میں شریک افراد کے کردار کے حوالے سے حتمی رائے تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی قائم کی جا سکے گی۔
پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے کیس کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں جبکہ مبینہ جرگے میں شریک افراد اور قتل میں نامزد کیے گئے افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق کیس میں دستیاب شواہد، بیانات اور دیگر ریکارڈ کی روشنی میں تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا اور ملزمان کے خلاف کارروائی شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق کی جائے گی۔
واقعے نے غیرت کے نام پر جرگوں کے ذریعے خواتین کے خلاف کیے جانے والے مبینہ فیصلوں اور ایسے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عائشہ عرف گلیمنہ کے قتل کیس میں حتمی حقائق تفتیش اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکیں گے۔





