حضرت علامہ پیر سید حسین الدین شاہ کاظمیؒ کے وصال پر سنی اتحاد کونسل کے رہنماؤں کی تعزیت

پیر سید حسین الدین شاہ کاظمی کے وصال سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں ہو سکے گا، پیر حسن رضا
راولپنڈی (نمائندہ خصوصی) سنی اتحاد کونسل پاکستان کے قائم مقام چیئرمین صاحبزادہ پیر حسن رضا، پیر عثمان علی عباسی، علامہ صاحبزادہ منیر عالم ہزاروی، علامہ صاحبزادہ سید ضمیر حسین شاہ کاظمی اور علامہ حافظ احسن مسعود قادری نے جامعہ رضویہ ضیاء العلوم راولپنڈی میں حضرت علامہ پیر سید حبیب الحق شاہ، علامہ پیر سید شہاب الدین شاہ، علامہ سید امتیاز حسین شاہ کاظمی اور علامہ مفتی محمد حنیف قریشی سے ملاقات کی اور مصلحِ امت، استاذ العلماء، شیخ الحدیث حضرت علامہ ابوالخیر پیر سید حسین الدین شاہ کاظمی قادری گولڑوی سلطانپوریؒ کے وصال پر تعزیت اور دعائے مغفرت کی۔اس موقع پر صاحبزادہ پیر حسن رضا نے کہا کہ حضرت مصلحِ امتؒ کا وصال اہلِ سنت کے علمی و روحانی حلقوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کے وصال سے پیدا ہونے والا علمی و روحانی خلا کبھی مکمل طور پر پُر نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت مصلحِ امتؒ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، فروغِ علم، اصلاحِ معاشرہ اور تربیتِ نسلِ نو کے لیے وقف کیے رکھی۔صاحبزادہ پیر حسن رضا نے سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ پیر حامد رضا، شیخ الحدیث جامعہ رضویہ فیصل آباد علامہ محمد سلطان چشتی، جامعہ رضویہ انوار العلوم واہ کینٹ کے پرنسپل علامہ پیر محمود احمد عباسی (برطانیہ)، علامہ پیر محمد حسین رضا (برطانیہ) اور صاحبزادہ پیر محسن رضا فیصل آباد کی جانب سے بھی اظہارِ تعزیت کیا اور ان کا پیغام جانشینِ مصلحِ امت علامہ پیر سید حبیب الحق شاہ کاظمی تک پہنچایا۔پیر عثمان علی عباسی نے کہا کہ حضرت مصلحِ امتؒ ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک مکمل علمی و تربیتی کارواں تھے۔ ان کا اٹھ جانا ایک عہد کے اختتام کے مترادف ہے۔ ان کا علمی و روحانی متبادل آسانی سے پیدا نہیں ہو سکتا۔علامہ صاحبزادہ منیر عالم ہزاروی نے کہا کہ حضرت مصلحِ امتؒ نے اپنی زندگی دین، علم اور اصلاحِ امت کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی وفات صرف ایک عالمِ دین کے انتقال کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم علمی و تربیتی نظام کے نقصان کا باعث ہے۔علامہ صاحبزادہ سید ضمیر حسین شاہ کاظمی نے کہا کہ حضرت مصلحِ امتؒ سے ہماری وابستگی علمی، روحانی اور قلبی نوعیت کی تھی۔ ان کی شفقت، تربیت اور دعاؤں کی یادیں ہمیشہ ہمارے لیے سرمایہ رہیں گی۔ ان کا وصال ذاتی طور پر بھی ایک عظیم صدمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت مصلحِ امتؒ کی وفات سے جو علمی، روحانی اور تربیتی خلا پیدا ہوا ہے، اسے پُر کرنا کسی ایک فرد کے لیے ممکن نہیں۔شرکائے تعزیت نے حضرت مصلحِ امتؒ کی طویل دینی، علمی، تدریسی، دعوتی، اصلاحی اور تحفظِ ختمِ نبوت کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے حضرت علامہ پیر سید حسین الدین شاہ کاظمیؒ کے درجات کی بلندی، مغفرت و بخشش اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے دعا کی، جبکہ لواحقین، اہلِ خانہ، تلامذہ، متعلقین اور وابستگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔