بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیات اسلامی کے زیر اہتمام قومی سلامتی و سماجی ہم آہنگی پر سیمینار

*پرچم کشائی کی تقریب,کتب کی نمائش کا اہتمام

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ادارہ تحقیقات اسلامی (آئی آر آئی) کی جانب سے یوم آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں "قومی سلامتی اور سماجی ہم آہنگی” کے موضوع پر فیصل مسجد میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا جبکہ پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔

تقریب کے مہمان خصوصی نائب صدر (انتظامی و مالی امور) پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید تھے، جبکہ پیغامِ پاکستان اقدام کے ریسورس پرسن اور یونیورسٹی کے سابق طالبعلم چوہدری حسین علی نے بطور مہمان مقرر شرکت کی۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید نے یومِ آزادی کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور قیامِ پاکستان و آزادی کے لیے قربانیاں دینے والوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس دن کو قومی محاسبے کا موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی کامیابیوں، کوتاہیوں اور مستقبل کی سمت پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قائدِ اعظم کے رہنما اصول اتحاد، ایمان اور تنظیم آج بھی قومی ترقی کی پائیدار بنیاد ہیں۔ انہوں نے قوم سازی اور قیادت سازی میں جامعات کے کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے پاکستان کے انسانی سرمائے کے مؤثر استعمال کا مطالبہ کیا اور اعتماد، مشترکہ اقدار اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سمیت سماجی سرمائے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

نائب صدر نے غربت کے خاتمے کو ایک اہم قومی ترجیح قرار دیا جس کے لیے مسلسل اور مربوط کوششیں درکار ہیں۔
اس موقع پر نائب صدر نے بیرونِ ملک سے موصول ہونے والا صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا یومِ آزادی کا پیغام بھی شرکاء تک پہنچایا، جس میں انہوں نے یونیورسٹی کے تمام وابستگان کو یومِ آزادی کی مبارکباد دی۔ پیغام میں بانیٔ پاکستان کے اصولوں اتحاد، ایمان اور تنظیم کی دائمی اہمیت کا اعادہ کیا گیا اور قوم سازی، قیادت کی تشکیل اور نوجوانوں کو ابھرتے ہوئے قومی و عالمی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تیار کرنے میں جامعات کے فیصلہ کن کردار کو اجاگر کیا گیا۔

مہمان مقرر چوہدری حسین علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قومی سلامتی عوام کی بنیادی ضروریات کی تکمیل سے الگ نہیں کی جا سکتی، اور پائیدار امن کے لیے معاشی استحکام ناگزیر ہے۔ انہوں نے سماجی تقسیم اور بڑھتے ہوئے انتشار کے رجحانات کو قومی یکجہتی کے لیے بڑے چیلنجز قرار دیا اور نوجوانوں میں شناخت کے بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ وہ ملک کو کیا دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عصرِ حاضر کی جنگیں محض عسکری قوت سے نہیں جیتی جا سکتیں، اور تعلیم ہی ایک مضبوط و مستحکم قوم کی تعمیر کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔

انہوں نے غلط اور جھوٹی معلومات کو سماجی بے چینی کا بڑا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بڑھتے ہوئے پروپیگنڈے کے چیلنج کا سامنا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے اثرات، بالخصوص آن لائن شخصیات کے رول ماڈل بننے کے رجحان سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کو محض ذریعۂ روزگار سمجھنے کے بجائے اسے شعوری پختگی، تنقیدی سوچ اور ذمہ دار شہری تشکیل دینے کا ذریعہ بننا چاہیے۔
اس سے قبل ڈائریکٹر جنرل آئی آر آئی ڈاکٹر محمد اکرم نے کہا کہ یہ دن آزادی کی عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور اسے یاد رکھنے کا دن ہے، اور آزادی پوری قوم کے لیے ایک اجتماعی نعمت ہے۔ انہوں نے صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی و قائم مقام ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کی جانب سے یومِ آزادی پر خصوصی تشکر اور مبارکباد کا پیغام پہنچایا۔

ڈاکٹر محمد اکرم نے قومی صفوں میں اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتا ہے اور اس کے عزائم کو صرف باہمی اتحاد و یکجہتی سے ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو خود احتسابی کا عمل اپنانا چاہیے۔ انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پر زور دیا اور ادارے کی جانب سے جاری پیغامِ پاکستان اقدام کو اجاگر کیا۔

ڈائریکٹر امورِ طلبہ ڈاکٹر غفران احمد نے قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی دستور ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائد پُرامن بقائے باہمی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو قومی زندگی کا حصہ بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مثبت طرزِ فکر اپنانا چاہیے۔

ڈائریکٹر امورِ طالبات (فی میل کیمپس) ڈاکٹر رخسانہ طارق نے کہا کہ یہ سیمینار اور پرچم کشائی کی تقریب حبِ وطن اور یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات کے مابین یکجہتی کا پیغام ہے۔

مہمان خصوصی نے آئی آر آئی کی ڈاکٹر حمید اللہ لائبریری کا دورہ بھی کیا، جہاں یومِ آزادی کے سلسلے میں کتب کی نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا۔

تقریب کے دوران بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے سکولز کے بچوں نے ملی نغمے پیش کیے، جنہیں شرکاء کی جانب سے بے حد سراہا گیا۔ ان بچوں نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ملی نغمہ بھی ریکارڈ کروایا ہے۔ تقریب کی نظامت شعبہ تقابل ادیان، آئی آر آئی کے سربراہ ڈاکٹر آفتاب احمد نے کی۔

تقریب میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے غیر ملکی طلبہ کے علاوہ اساتذہ، افسران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پر یومِ آزادی کی خوشی میں کیک کاٹا گیا۔