سینیٹ قائمہ کمیٹی کی سرکاری خریداری کے نظام میں مزید شفافیت اور سائبر سکیورٹی مضبوط بنانے کی ہدایت

ای پی اے ڈی ایس 2.0 پر تفصیلی بریفنگ، اسلام آباد کلب کے انتخابات جلد کرانے اور نیوٹیک کا معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجنے کی سفارش

اسلام آباد (اظہار خان نیازی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے سرکاری خریداری کے نظام میں مزید شفافیت، معیاری طریقہ کار اور سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت اسلام آباد کلب میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں پی پی آر اے کے منیجنگ ڈائریکٹر نے الیکٹرانک پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (ای پی اے ڈی ایس 2.0) پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نظام کے ذریعے منصوبہ بندی سے لے کر ٹھیکوں کی منظوری تک تمام عمل ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے، جبکہ نظام سے باہر کی جانے والی ادائیگیاں قبول نہیں کی جاتیں تاکہ شفافیت اور مالیاتی احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔
کمیٹی نے ای پی اے ڈی ایس کی سائبر سکیورٹی، ڈیٹا کے تحفظ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق انکرپشن نظام پر آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ طلب کرتے ہوئے ملک بھر میں وینڈرز کی تربیت کا دائرہ مزید وسیع کرنے کی ہدایت بھی کی۔ پی پی آر اے نے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں ایندھن یا دیگر ضروری اشیا کی خریداری کے لیے کوئی خصوصی رعایت نہیں دی گئی اور ہنگامی خریداری کے لیے موجودہ قوانین ہی کافی ہیں۔
کمیٹی نے اسلام آباد کلب کے منتظم کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کلب کے انتخابات جلد از جلد کرانے کی سفارش کی اور معاملہ وزیراعظم آفس کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی نے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) کی جانب سے سابقہ ہدایات پر عمل درآمد نہ ہونے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجنے کی سفارش کی۔