تازہ آبادیاتی اعدادوشمار کی عدم دستیابی پر تشویش، جاری ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کرنے اور نئے منصوبوں سے قبل پرانے منصوبے مکمل کرنے پر زور
اسلام آباد (اظہار خان نیازی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات سمیت کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں قومی ایکشن پلان برائے آبادی (2021ء تا 2026ء) پر عمل درآمد اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وزارتِ قومی صحت کی بریفنگ میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ قومی ایکشن پلان برائے آبادی مئی 2021ء میں تقریباً ایک ارب 99 کروڑ 66 لاکھ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت آزاد جموں و کشمیر کے 10 اضلاع، گلگت بلتستان کے 14 اضلاع اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کو شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مانع حمل ادویات اور اشیاء کی خریداری کے لیے ایک ارب 67 کروڑ 96 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مکمل طور پر درآمد کی جاتی ہیں، جبکہ مالی سال 2026-27ء کے لیے 25 کروڑ روپے میڈیا مہم اور مانع حمل اشیاء کی خریداری کے لیے رکھے گئے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ دستیاب تازہ ترین آبادیاتی اعدادوشمار پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے 2017-18ء پر مبنی ہیں، جبکہ پاکستان بیورو آف شماریات 2025-26ء تک کے نئے اعدادوشمار کی تیاری کے لیے سروے کر رہا ہے۔ اس پر چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت میں سروے مکمل نہ ہونے سے شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، پالیسی سازی اور وسائل کی مؤثر تقسیم متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے وزارتِ صحت کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں منصوبے کے تمام پہلوؤں، مانع حمل اشیاء کی خریداری، تقسیم، استعمال اور درپیش مسائل پر جامع بریفنگ پیش کی جائے۔
کمیٹی نے کیش ڈویلپمنٹ لون کے تحت این ایچ اے کے منصوبوں اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا۔ این ایچ اے حکام نے بتایا کہ قرضوں کی تنظیمِ نو کی جامع تجویز وزارتِ مواصلات اور وزارتِ خزانہ کے اشتراک سے تیار کی جا رہی ہے۔ چیئرپرسن نے اس عمل میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبوں کی درجہ بندی کا عمل بہت پہلے مکمل ہو جانا چاہیے تھا۔
اجلاس میں ایم-6 موٹروے منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کا سنگ بنیاد رواں سال متوقع ہے، جبکہ این-5 شاہراہ کے مختلف حصوں کی بحالی ایشیائی بنیادی ڈھانچہ سرمایہ کاری بینک کے مالی تعاون سے جاری ہے۔ حکام نے بتایا کہ قومی شاہراہوں کی سالانہ کنڈیشن سروے کے ذریعے سڑکوں کی حالت کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ بروقت مرمت اور بحالی ممکن بنائی جا سکے۔
کمیٹی کو این-55 منصوبے کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ دوسرے مرحلے کے شکارپور تا کندھ کوٹ سیکشن پر 34 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ کندھ کوٹ تا کشمور سیکشن پر صرف 22 فیصد پیش رفت ہوئی ہے اور اس کے مقررہ مدت میں مکمل ہونے کا امکان کم ہے۔ تاہم دوسرے مرحلے کے باقی دو حصوں کی تکمیل مقررہ وقت کے اندر متوقع ہے۔
اجلاس کے اختتام پر چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو اولین ترجیح دی جائے اور محدود سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے نئے منصوبے شروع کرنے سے پہلے زیر تکمیل منصوبوں کو نمایاں حد تک مکمل کیا جائے۔





