امریکا سے واپس لائے گئے 513 قیمتی آثارِ قدیمہ کے لیے نیا عجائب گھر بنانے کی تجویز، ٹیکسلا میں تحفظ کے کام یونیسکو کے معیار کے مطابق جاری رکھنے پر زور
اسلام آباد (اظہار خان نیازی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس چیئرمین سینیٹر ہدایت اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ٹیکسلا کے تاریخی آثارِ قدیمہ، یونیسکو کی جانب سے موہڑہ موراڈو اور سرکپ کے تحفظ سے متعلق تحفظات، امریکا سے واپس لائے گئے پاکستانی نوادرات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد آثارِ قدیمہ کا تحفظ صوبائی معاملہ ہے اور پنجاب حکومت کی جانب سے موہڑہ موراڈو اور سرکپ میں بحالی کا کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیسکو نے تحفظ کے کام سے متعلق بعض معلومات طلب کی تھیں جو پنجاب حکومت فراہم کر چکی ہے، جس کے بعد مزید کوئی اعتراض موصول نہیں ہوا اور بحالی کا کام یونیسکو کے مقررہ اصولوں کے مطابق جاری ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹیکسلا عالمی ثقافتی ورثہ سائٹ کے تحفظ کا پروگرام یونیسکو، آئیکوموس اور اربن یونٹ کی سفارشات کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس میں عالمی معیار کے مطابق سائنسی طریقہ کار، روایتی تعمیراتی مواد، نکاسی آب اور قدیم ڈھانچوں کے دیرپا تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان کے اس وقت یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں چھ مقامات شامل ہیں، جبکہ مزید 24 مقامات کی نامزدگی کے لیے دستاویزات جمع کرائی جا چکی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ یونیسکو ہر سال ایک ملک سے صرف ایک نامزدگی پر غور کرتا ہے، تاہم پاکستان نے زیر التوا نامزدگیوں کو ترجیح دینے کی درخواست کی ہے۔
سینیٹر سید وقار مہدی نے یونیسکو کے تحفظات کی تفصیلات طلب کیں، جس پر حکام نے بتایا کہ اعتراضات کا تعلق بحالی میں استعمال ہونے والے تعمیراتی مواد، دیواروں کی تعمیر نو کے طریقہ کار اور بعض تعمیرات کی بلندی سے تھا، جن کا تفصیلی جواب اور سائنسی دستاویزات یونیسکو کو فراہم کر دی گئی ہیں۔
کمیٹی نے ٹیکسلا کو ہیریٹیج سٹی کے طور پر ترقی دینے کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔ حکام نے بتایا کہ رواں سال تحفظ کے منصوبوں پر تقریباً 10 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ اوپن ایئر میوزیم، سیاحوں کی سہولیات اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بھی غور جاری ہے۔
سینیٹر بشریٰ انجم نے آثارِ قدیمہ کے تحفظ میں وفاقی سطح پر مؤثر نگرانی، بہتر سیاحتی ڈھانچے، رہائش، سیاحوں کی سہولیات اور پائیدار کاروباری ماڈل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام تحفظاتی کام یونیسکو کے معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔
کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ یونیسکو کا باضابطہ جواب موصول ہونے پر کمیٹی کے ساتھ شیئر کیا جائے، جبکہ ارکان ٹیکسلا کے آثارِ قدیمہ کا دورہ بھی کریں گے۔
بعد ازاں کمیٹی نے امریکا سے اسمگل ہو کر جانے والے پاکستانی آثارِ قدیمہ کی واپسی سے متعلق بریفنگ بھی سنی۔ حکام نے بتایا کہ امریکا کے تعاون سے گندھارا تہذیب سے تعلق رکھنے والے 513 قیمتی نوادرات پاکستان واپس لائے گئے ہیں، جو کئی دہائیوں کے دوران غیرقانونی طور پر اسمگل کیے گئے تھے اور اب حکومتی تحویل میں ہیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ان نوادرات کی نمائش اور تحفظ کے لیے اسلام آباد میں نیا عجائب گھر قائم کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے، جس کے لیے سی ڈی اے کے تعاون سے زمین کے حصول پر کام ہو رہا ہے، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں روہڑہ گاؤں کے قریب مغلیہ دور کی تاریخی محراب کو ہاؤسنگ منصوبے کے لیے مبینہ طور پر مسمار کیے جانے کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ اس معاملے کی مکمل رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔
اجلاس کے اختتام پر سینیٹر ہدایت اللہ خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے ثقافتی اور آثارِ قدیمہ کے ورثے کے تحفظ، ادارہ جاتی رابطوں کے فروغ، سیاحت کی بہتر منصوبہ بندی اور نوادرات کی غیرقانونی اسمگلنگ کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔





