سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا یومیہ پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام کا جائزہ، اوگرا کو تمام فریقین سے مشاورت کی ہدایت

پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں پر تشویش، پی آر ایل اور ایس ایس جی سی کے رویے پر برہمی، استحقاق کی تحریک لانے پر غور

اسلام آباد (اظہار خان نیازی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عمر فاروق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں یومیہ بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نئے نظام، سرکاری پیٹرولیم کمپنیوں کے سربراہان کی تقرری، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل اور کمیٹی کی سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں سینیٹر قرۃ العین مری، سینیٹر سیف اللہ ابڑو، سینیٹر عبد الواسع، سینیٹر رانا محمود الحسن، سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر ہدایت اللہ خان اور سینیٹر امیر ولی الدین چشتی نے شرکت کی، جبکہ سینیٹر جان محمد خصوصی مدعو کے طور پر شریک ہوئے۔

کمیٹی نے حال ہی میں متعارف کرائے گئے یومیہ پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام پر تفصیلی غور کرتے ہوئے سابقہ پندرہ روزہ نظام کی جگہ نئے طریقہ کار کو اختیار کرنے کی وجوہات پر سوالات اٹھائے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے قیمتوں کے تعین کے عمل کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرتے ہوئے یہ اختیار آزاد ریگولیٹری ادارے اوگرا کو منتقل کر دیا ہے۔

چیئرمین اوگرا نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے پلاٹس بینچ مارک کے سات روزہ اوسط نرخوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام سے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا اثر یکدم عوام پر منتقل نہیں ہوتا، خصوصاً امریکا۔ایران کشیدگی جیسے حالات میں قیمتوں کے شدید جھٹکوں سے صارفین کو تحفظ ملتا ہے، جبکہ اس طریقہ کار سے ناجائز منافع خوری اور قیاس آرائی کی حوصلہ شکنی بھی ہوتی ہے۔ کمیٹی اراکین نے پیٹرولیم سپلائی چین کو ڈیجیٹل بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ملاوٹ، اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی مؤثر روک تھام کی جا سکے۔

کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بتایا کہ قیمتوں میں روزانہ تبدیلی سے ڈیلرز کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے اوگرا کو ہدایت کی کہ ڈیلرز ایسوسی ایشن سمیت تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کر کے قابلِ عمل تجاویز پر مشتمل رپورٹ کمیٹی میں پیش کی جائے۔

اجلاس میں پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل) کے منیجنگ ڈائریکٹر کی عدم شرکت اور مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے منیجنگ ڈائریکٹر پی آر ایل کے خلاف استحقاق کی تحریک لانے پر غور کیا، جبکہ پیٹرولیم ڈویژن کو تمام سرکاری پیٹرولیم کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور اعلیٰ انتظامیہ کی مکمل تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

کمیٹی نے اپنی سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہوئے سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی جانب سے ہدایات پر عمل نہ کرنے، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تفصیلات فراہم نہ کرنے اور کمیٹی کے بارے میں دیے گئے نامناسب ریمارکس پر باضابطہ معذرت نہ کرنے پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے ایس ایس جی سی کے خلاف بھی استحقاق کی تحریک لانے پر غور کیا اور پیٹرولیم ڈویژن کو مقررہ مدت سے زائد عرصہ خدمات انجام دینے والے بورڈ ممبران کی مدت کا جائزہ لے کر جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

قائمہ کمیٹی نے آئل رگز کی کارکردگی کے آڈٹ نہ ہونے کا بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو سات روز کے اندر آڈٹ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں ایل پی جی کوٹہ اور لائسنسنگ سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا اور اوگرا کو تمام متعلقہ فریقین کا اجلاس بلا کر تفصیلی رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔