خواتین پارلیمانی کاکس کا تمباکو کنٹرول اور ای سگریٹ کی سخت نگرانی کا مطالبہ

 

نوجوانوں میں ای سگریٹ کے بڑھتے استعمال پر تشویش، نکوٹین مصنوعات کی تشہیر اور خوشبودار اقسام پر پابندی، مؤثر نگرانی اور سخت سزاؤں پر زور

اسلام آباد (اظہار خان نیازی) خواتین پارلیمانی کاکس کی ورکنگ کونسل نے تمباکو نوشی پر قابو پانے اور الیکٹرانک سگریٹ سمیت نکوٹین مصنوعات کی مؤثر نگرانی کیلئے قانون سازی مزید سخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں، نوجوانوں اور خواتین کو نکوٹین کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

خواتین پارلیمانی کاکس کی ورکنگ کونسل کا نواں اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں کاکس سیکرٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں عورت فاؤنڈیشن کی جانب سے تمباکو کنٹرول اور الیکٹرانک نکوٹین مصنوعات کی قانون سازی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں خزانچی خواتین پارلیمانی کاکس شاہدہ بیگم، اراکین قومی اسمبلی فرخ خان، نعیمہ کشور خان اور رانا انصار سمیت صحت کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر مطیع الرحمن نے تمباکو اور نکوٹین مصنوعات سے لاحق صحت کے خطرات اور پاکستان میں تمباکو کنٹرول کے مؤثر نفاذ کو درپیش مشکلات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کے شرکا نے نوجوانوں بالخصوص کم عمر افراد میں ای سگریٹ اور دیگر نکوٹین مصنوعات کے بڑھتے استعمال اور تشہیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ نکوٹین بچوں، خواتین، حاملہ خواتین اور بالواسطہ تمباکو نوشی کا شکار افراد کیلئے نقصان دہ ہے، جبکہ مختلف ذائقوں، اشتہارات اور سماجی رابطوں کے ذرائع پر تشہیر نوجوانوں کو ان مصنوعات کے استعمال کی جانب راغب کرسکتی ہے۔

ورکنگ کونسل نے الیکٹرانک نکوٹین مصنوعات سے متعلق مجوزہ قانون سازی کا جائزہ لیتے ہوئے ضوابط مزید سخت کرنے پر زور دیا۔ اجلاس میں نکوٹین کی مقدار کی حد 20 ملی گرام فی ملی لیٹر مقرر کرنے، خلاف ورزیوں پر سزاؤں میں اضافے، خوشبودار الیکٹرانک نکوٹین مصنوعات اور ان کی تشہیر پر پابندی، مؤثر نگرانی اور قوانین کے سخت نفاذ کی تجاویز پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں سگریٹ اور نکوٹین مصنوعات پر تصویری صحت انتباہات کا دائرہ 60 فیصد سے بڑھا کر 70 سے 80 فیصد کرنے اور تعلیمی اداروں کے گرد 50 میٹر کے علاقے میں تمباکو نوشی سے پاک ماحول کی پابندی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

خواتین پارلیمانی کاکس کی ورکنگ کونسل نے مجوزہ قانون سازی کو مؤثر بنانے کیلئے پارلیمانی کردار مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ متعلقہ پارلیمانی کمیٹیوں سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر موجودہ ضابطہ کار کا جائزہ لینے اور ضروری ترامیم تیار کرنے کی تجویز دی گئی۔

اجلاس میں تصویری صحت انتباہات سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس لانے سمیت ارکان پارلیمنٹ، صحت کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندگان پر مشتمل وسیع مشاورتی فورم تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی تاکہ مجوزہ قانون اور ترامیم پر جامع غور کیا جاسکے۔

ورکنگ کونسل نے پارلیمنٹ، حکومتی اداروں، صحت کے ماہرین اور سول سوسائٹی، بالخصوص عورت فاؤنڈیشن کے درمیان تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ارکان پارلیمانی کمیٹیوں اور پارلیمنٹ کو تمباکو اور نئی نکوٹین مصنوعات سے متعلق قانون سازی کیلئے ضروری معلومات اور آگاہی فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔

خواتین پارلیمانی کاکس نے شواہد پر مبنی قانون سازی، مؤثر پارلیمانی نگرانی اور تمباکو کنٹرول کے مضبوط اقدامات کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بچوں، نوجوانوں اور خواتین کی صحت و بہبود کے تحفظ کیلئے آگاہی اور تعلیمی مہمات بھی مسلسل جاری رہنی چاہئیں۔