پیر خواجہ احمد میروی رحمتہ اللہ علیہ کا118 واں عرس مبارک تین روز تک جاری رہنے کے بعد اختتامی دعاء کے بعد اختتام پذیر ہو گیا

داؤدخیل(ضیاءنیازی سے)پیر خواجہ احمد میروی رحمتہ اللہ علیہ کا118 واں عرس مبارک تین روز تک جاری رہنے کے بعد اختتامی دعاء کے بعد اختتام پذیر ہو گیا تین دن تک ملک بھر سے ہزاروں عقیدت مندوں اور مریدوں نے بھرپور شرکت کی غریب نواز خواجہ خواجگان محبوب اللہ الصمد تاجدار آستانہ عالیہ میرا شریف حضرت خواجہ احمد چشتی نظامی سلیمانی میروی رحمت اللہ علیہ کی دین کے لیے خدمات لازوال ہیں جہنوں نے سینکڑوں غیر مسلم کو مسلمان کیا اور میرا شریف جیسے سنگلاخ علاقے میں دین اسلام کی شمع روشن کی عرس کی تین روزہ تقریبات کا اہتممام
حضرت خواجہ پیر محمد شہزاد احمد چشتی نظامی میروی آستانہ عالیہ میرا شریف۔بمقام دربار عالیہ میرا شریف میں کیا عرس کی تقریبات میں ملک کے نامور علماء کرام نے شرکت کی اور پیر خواجہ احمد میروی رحمتہ اللہ کی دین اسلام کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا عرس تقریبات میں حضرت علامہ مولانا شوکت سیالوی حطیب اعظم سیال شریف۔قاری ریحان حبیب سہروردی۔قاری محمد شہزاد اسلام آباد۔حضرت علامہ مولانا نثار نوری آف راولپنڈی و دیگر درجنوں علماء کرام و ثناخواں نے شرکت کی اور خواجہ احمد میروی کی زندگی پر روشنی ڈالی علماء کرام نے دوران خطاب کہا کہ حضرت خواجہ احمد میروی رحمتہ اللہ نے مشکل ترین وقت میں اللہ کے دین کو روشن کیا اور کئی تکالیف برداشت کیں اور یہی وجہ ہے کہ اج ان کا 118واں عرس مبارک ہے اور ہر سال ان کے چاہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ان کے تین روزہ عرس کے تین دنوں میں روزانہ ہزاروں عقیدت مند دربار عالیہ میرا شریف حاضری دیتے ہیں علماء کرام نے دوران خطاب کہا کہ اس وقت جماعت اہلسنت کا ہیرا سجادہ نشین صاحبزادہ شہزاد احمد میروی میرا شریف میں موجود ہیں اور علم کی شمع کو روشن کیے ہوئے ہیں اور ساتھ دین اسلام کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں انہوں نے میرا شریف میں مدرسہ قائم کیا ہوا ہے جہاں طلباء کو اسلام دین کی بہتری تعلیم فراہم کی جا رہی ہے انہوں نے مزید کہا کہ خواجہ احمد میروی کی زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے خواجہ صاحب نے پہاڑوں میں زندگی گزار کر دین اسلام کی خدمت کی اور عوام کو اپنے رب کے دین سے روشناس کرایا خواجہ احمد میروی رحمتہ اللہ منگھروٹ شریف کے تھے اور تونسہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ میرا شریف آئے جو پہاڑوں میں گمنام علاقہ تھا جو خواجہ احمد میروی کے آنے کے بعد میرا سے میرا شریف ہو گیا اور ملک بھر میں مشہور ہو گیا ہر علماء کرام نے اپنے خطاب میں خواجہ احمد میروی رحمتہ اللہ کو خراج تحسین پیش کیا محفل میں ہزاروں مریدین نے شرکت کی آخری روزہ تقریب میں سجادہ نشین صاحبزادہ شہزاد احمد میروی نے قرآن حفظ کرنے والے طلباء اور قاری۔علامہ بننے والے طلباء کی دستار بندی کی اور انہیں شیلڈ اور پھولوں کے گلدستے پیش کیے آخر پر دعا خیر کی گئی اور ملک بھر سے آنے والے مریدین کے لیے لنگر کا وسیع انتظام کیا گیا تھا