بحریہ ٹاؤن غیر قانونی زرِمبادلہ کیس، تین ملزمان کو ایک ایک سال قید اور جرمانے کی سزا

ایف آئی اے کی بڑی عدالتی کامیابی، حوالہ ہنڈی سے منسلک اثاثے ضبط کرنے کا حکم

اسلام آباد(رپورٹ:اظہار خان نیازی) ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد نے بحریہ ٹاؤن غیر قانونی زرِمبادلہ کیس میں اہم عدالتی کامیابی حاصل کر لی۔ ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ اسلام آباد نصرمن اللہ بلوچ نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کرنل (ر) خلیل الرحمان، نائب چیف ایگزیکٹو بحریہ ٹاؤن، عمران کاکا اور مشتاق احمد کو غیر قانونی زرِمبادلہ اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث قرار دیتے ہوئے ہر ایک کو ایک سال قید، پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور غیر قانونی مالی لین دین سے منسلک اثاثے ضبط کرنے کی سزا سنائی۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تحقیقات میں بڑے پیمانے پر غیر دستاویزی مالی لین دین اور حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقوم کی منتقلی کے شواہد سامنے آئے، جبکہ مالی ریکارڈ سے ملزمان کے اثاثوں میں غیر معمولی اضافے کا بھی انکشاف ہوا۔
ایف آئی اے کے مطابق اس مقدمے کی کامیاب پیروی میں ڈپٹی ڈائریکٹر رانا عابد حسین، تفتیشی افسر انسپکٹر زاہد بھٹی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل محمد افضال نے اہم کردار ادا کیا۔ ادارے نے عدالتی فیصلے کو غیر قانونی حوالہ ہنڈی اور منی لانڈرنگ کے خلاف جاری کارروائیوں میں اہم پیش رفت قرار دیا۔