داؤدخیل(ضیاءنیازی سے)دریائے سندھ کے کٹاؤ سے محمد شریف والی کی سینکڑوں کنال اراضی دریا برد ہو چکی ہے عوام پر چوبیس گھنٹے ان کے سروں پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے کسی نے عوام کی داد رسی کرنا گوارہ نہیں کی ان خیالات کا اظہارایم پی اے امین اللہ خان پی پی 86 کا محمد شریف والی کا دورہ دریا سندھ کے کٹاؤ کا جائزہ لیتے ہوئے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا اور کہا کہ یہ ظلم ہے کہ غریب عوام کی سینکڑوں کنال اراضی دریا برد ہو چکی ہے لوگ اپنے علاقے سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں اور فارم 47کی حکومت ستو پی کر سو رہی ہے انہوں نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو محمد شریف والی دریا برد ہونے کا خطرہ ہے لوگ اپنی مدد آپ کوششیں کر رہے ہیں ڈی سی میانوالی اسد مگسی فوری ایکشن لیکر علاقے کو دریا برد ہونے سے بچائیں انہوں نے کہا کہ 2013 میں ن لیگی حکومت نے جناح بیراج سے لیکر چشمہ بیراج تک دریاء سندھ کے کنارے سیفٹی بند کی منظوری دی فنڈز بھی دیے لیکن کام کہیں نظر نہیں آتا ہمارے دور حکومت 2018 کے دوران ہم نے دھپ سڑی کے مقام پر کٹاؤ سے علاقے کو بچانے کے لیے کروڑوں روپے لگا کر بند بنوایا جس سے کٹاؤ رک گیا یہ بھی تین کلو میٹر کا بند منظور تھا لیکن حکومت جانے کے بعد اس منصوبے کو ٹھپ کر دیا گیا ان علاقوں کے ساتھ ظلم صرف عمران خان کا ساتھ دینے پر کیا جا رہا ہے لیکن افسوس کہ پنجاب کی قیمتی زرعی زمینیں دریا برد ہو رہی ہیں لوگ مکان اکھاڑ کر منتقل ہو رہے ہیں جو محمد شریف والی میں مقیم ہیں ان کے لیے ہر وقت خطرات لاحق ہیں اب کٹاؤ آبادی کے نزدیک پہنچ چکا ہے ڈی سی میانوالی اسد مگسی فوری ایکشن لیکر اس کٹاو کے لیے ہنگامی اقدامات کریں اور عوام کو کٹاؤ سے بچائیں میں اسمبلی میں بھی محمد شریف والی کے کٹاؤ کے لیے آواز بلند کرونگا تاکہ جلد اس کا سدباب ہو سکے





