یومِ تکبیر قومی عزم اور دفاعی خودمختاری کی علامت قرارپاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کا ثبوت دیا، تعلیم اور دفاع دونوں قومی ترجیحات ہونی چاہئیں، مقررین

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)
نظریہ پاکستان کونسل کے زیر اہتمام ایوانِ قائد میں یومِ تکبیر کے حوالے سے خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں مقررین نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو قومی تاریخ کا عظیم کارنامہ قرار دیتے ہوئے قومی سائنسدانوں، پالیسی سازوں اور مسلح افواج کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب کی صدارت سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ایٹمی تجربات کے جواب میں بروقت اور دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے ایٹمی تجربات کیے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام خالصتاً دفاعی نوعیت کا حامل ہے اور اس کا مقصد ملکی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی استحکام کا تحفظ ہے۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے اور اس کی دفاعی حکمت عملی امن کے قیام اور جارحیت کے سدباب پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یومِ تکبیر قومی عزم، سائنسی صلاحیتوں اور بروقت قیادت کے فیصلوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت قومی سلامتی کی ضمانت ہے، تاہم قوم کو دفاعی استحکام کے ساتھ تعلیمی ترقی کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور ایک مضبوط، محفوظ اور ترقی یافتہ پاکستان کے لیے تعلیم اور قومی دفاع دونوں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔
چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نذیر احمد نے کہا کہ یومِ تکبیر پاکستان کی خودمختاری، قومی وقار اور دفاعی استحکام کی علامت ہے اور یہ دن قومی اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔
قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے نظریہ پاکستان کونسل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کونسل نوجوان نسل میں قومی اور نظریاتی شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے جامعات کے طلبہ کو قومی اہمیت کے معاملات میں شریک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے کہا کہ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو تھے جنہوں نے اپنی صلاحیتوں، عزم اور حب الوطنی کے ذریعے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم اپنے محسنوں اور قومی ہیروز کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
ڈائریکٹر جنرل بیت المال پروفیسر ڈاکٹر محمد ذیشان دانش نے کہا کہ یومِ تکبیر قوم کو اپنے نظریاتی تشخص، قومی مقاصد اور استحکام کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ نظریۂ پاکستان اور قیامِ پاکستان کے مقاصد کو سمجھتے ہوئے اس کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔
معروف معالج اور نیشنل پریس کلب کی مجلس عاملہ کے سینئر رکن ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بننا پاکستان کی ایک عظیم تاریخی کامیابی ہے، تاہم دفاعی قوت کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت، روزگار اور معاشی مسائل کے حل پر بھی بھرپور توجہ دی جانی چاہیے۔
آئی بی ایل کے چیئرمین وحید شریف نے کہا کہ نظریہ پاکستان کونسل قومی مقاصد کے حصول کے لیے متحرک کردار ادا کر رہی ہے اور تحریک پاکستان کے ہیروز سے منسوب ایام کو قومی سطح پر منانا وقت کی ضرورت ہے۔
نظریہ پاکستان کونسل کے سینئر وائس چیئرمین فیصل زاہد ملک نے کہا کہ 28 مئی کا دن قومی تاریخ کا سنہرا باب ہے جب پاکستان نے چاغی میں کامیاب ایٹمی تجربات کرکے اپنی دفاعی اور سائنسی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے اپنے والد مرحوم زاہد ملک کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے غیر معمولی محبت رکھتے تھے اور دونوں شخصیات قومی خودمختاری اور نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے کوشاں رہیں۔
تقریب کے اختتام پر نظریہ پاکستان کونسل کے چیئرمین میاں محمد جاوید نے مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یومِ تکبیر کی مناسبت سے منعقدہ یہ تقریب قومی یکجہتی، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ ایک متحد، باشعور اور مضبوط قوم ہی کر سکتی ہے۔
تقریب کی نظامت ڈائریکٹر میڈیا و پروگرامز حمید قیصر نے کی۔