مہنگائی کا طوفان عوام کو نگل رہا ہے، حکومتی دعوے زمینی حقائق سے متصادم ہیں،شیخ عبدالوحید

راولپنڈی(سٹی رپورٹر)

شیخ عبدالوحید صدر انجمن تاجران لیاقت روڈ راولپنڈی نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بالخصوص پنجاب میں مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس، پٹرول اور گھریلو ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام آدمی کو معاشی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، جب کہ حکومت کے ریلیف کے دعوے صرف بیانات تک محدود نظر آتے ہیں۔

انہوں نے اپنے اہم بیان میں کہا کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق حالیہ مہینوں میں افراطِ زر کی شرح 7.5 سے 8.5 فیصد کے درمیان پہنچ چکی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ عوام کے لیے مہنگائی اس سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ بازاروں میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں،تنخواہیں جمود کا شکار ہیں اور متوسط و غریب طبقہ دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔شیخ عبدالوحید نے کہا کہ مشرقِ وسطہ کی کشیدہ صورتحال، عالمی سطح پر توانائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور پیداواری لاگت میں اضافہ اپنی جگہ، لیکن حکومت کی ناقص معاشی منصوبہ بندی اور مؤثر نگرانی کے فقدان نے بھی عوامی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ ہر نئے دن کے ساتھ مہنگائی کا ایک نیا بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔انہوں نے حکومت کے معاشی استحکام کے دعوؤں کو زمینی حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی حالات بہتر ہو رہے ہیں تو پھر عوام کی قوتِ خرید کیوں مسلسل گم ہو رہی ہے؟ کیوں تنخواہ دار طبقہ، مزدور، پنشنرز اور چھوٹے کاروباری افراد شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں؟ عوام کو اعداد و شمار نہیں بلکہ عملی ریلیف چاہیے۔شیخ عبدالوحید نے وفاقی اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام 70 سال سے تاجر اور عوام دوست بجٹ کا راگ سنتے آئے ہیں حکومت آئی ایم ایف سے قرضوں کی قسط دینے کے لیے مزید قرض لے رہی ہے علاوہ ازیں مقامی بیکوں سے بھی بھاری قرض لے عوام قوم کو محکوم اور مقروض کر رہی ہے افراط زر کی اوڑان بے قابو ہو گئی ہے جس وجہ سےمہنگائی کے بے قابو جن کو قابو کرنے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے، تنخواہوں اور پنشنوں میں خاطر خواہ اضافہ کرنے اور کاروباری طبقے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، ورنہ عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا حکومت اپنے ہر قسم کے اخراجات کم کرے۔ وزرا کی تعداد محکموں کی تعداد حکومتی اخراجات کا بوجھ عوام کی گردنوں پر ہے اٹھاوریںترمیم کے بعد صوبوں کو دیے جانے والے محکموں کے وزرا آج بھی عوام کا پیٹ کاٹ رہے ہیں ۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور عوام کو مزید مشکلات میں نہ ڈالے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔