اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) مقررین نے کہاہےکہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کی بنیادی شرط ہے، پاکستان میں پائیدار ترقی کے لیے یکساں نظامِ تعلیم، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب، ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ، اساتذہ کی معیاری تربیت اور مؤثر احتسابی نظام کا نفاذ ناگزیر ہے،مقررین نے ان خیالات کا اظہارنیشنل پریس کلب اسلام آباد میںمصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ (ایم ایس ایم) اسلام آباد زون کے زیرِ اہتمام تعلیمی بحٹ سیمینار27- 2026کے انعقاد کے موقع پر کیا،سیمینار میں ماہرینِ تعلیم، محققین، طلبہ رہنماؤں اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی،سیمینار کا بنیادی مقصد پاکستان میں تعلیم کے شعبے کے لیے مختص بجٹ کو موجودہ سطح سے بڑھا کر کم از کم جی ڈی پی کے 5 فیصد تک لے جانے کی ضرورت کو اجاگر کرنا تھا، تاکہ ملک میں تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور ہر بچے کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔تقریب کا آغاز صدر ایم ایس ایم اسلام آباد زون شیخ سلمان کریم کے افتتاحی کلمات سے ہوا، جنہوں نے تنظیم کا تعارف پیش کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔سیمینار میں مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ پاکستان کے سینئر وائس پریذیڈنٹ سید بلال حسن کاظمی نے خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے ایم ایس ایم اسلام آباد زون کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اصلاحات کے لیے نوجوانوں کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہر بچے کو یکساں مواقع میسر آسکیں اور ایک تعلیم یافتہ، ہنر مند اور ذمہ دار نسل کی تشکیل ممکن ہو سکے۔شرکاء نے پاکستان کے تعلیمی نظام کو درپیش اہم چیلنجز، جن میں کم شرحِ خواندگی، تعلیمی عدم مساوات، بنیادی سہولیات کی کمی اور اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد شامل ہیں پر تفصیلی گفتگو کی اور ان مسائل کے قابلِ عمل حل پیش کیے۔سیمینار کے اختتام پرایم ایس ایم اسلام آباد زون نے اعلان کیا کہ ایک تفصیلی پالیسی پیپر متعلقہ قومی اداروں کو پیش کیا جائے گا، جس میں تعلیمی نظام کی بہتری، تعلیمی فنڈنگ میں اضافے، تعلیمی عدم مساوات کے خاتمے اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ کے لیے عملی سفارشات شامل ہوں گی۔مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ نے اپنے دیرینہ قومی مؤقف "تعلیم بچاؤ، قوم بچاؤ” کا اعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان میں تعلیمی اصلاحات، معیاری تعلیم کے فروغ اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد بھرپور انداز میں جاری رکھے گی۔ سیمینار کے اختتام پر ایک جامع تعلیمی اصلاحات اور تعلیمی مباحث کے فروغ سے متعلق پالیسی پیپر وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، پارلیمنٹ آف پاکستان اور سینیٹ آف پاکستان کو باضابطہ طور پر پیش کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔





