قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا بجٹ میں ٹیکس ریلیف اقدامات کے مالی اثرات کی تفصیلات طلب

ٹیکس رعایتوں سے محصولات میں کمی اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کی حکمت عملی پر ارکان کے سوالات، ایف بی آر کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے وفاقی بجٹ 2026-27 میں تجویز کردہ ٹیکس ریلیف اقدامات کے مالی اثرات اور محصولات پر ممکنہ بوجھ کی تفصیلات طلب کر لیں۔ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے ٹیکس رعایتوں سے قومی خزانے پر پڑنے والے اثرات اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے حکومتی حکمت عملی پر تشویش کا اظہار کیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اعلیٰ حکام نے بجٹ میں شامل ٹیکس اقدامات، مالیاتی اصلاحات اور محصولات بڑھانے کی تجاویز پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس میں تنخواہ دار طبقے کو مہنگائی کے تناظر میں ریلیف، پراپرٹی ٹیکس میں کمی، آئی ٹی شعبے کے لیے مراعات اور ان اقدامات کے معیشت، برآمدات اور سرمایہ کاری پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ اقدامات سے حقیقی معاشی سرگرمیوں کے بجائے قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری کو فروغ نہ ملے۔

کمیٹی نے مجوزہ فیس لیس آڈٹ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیصی نظام کے تحت ٹیکس دہندگان کے حقوق، شفافیت، قانونی تقاضوں اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی اٹھائے۔

چیئرمین سید نوید قمر نے زور دیا کہ ٹیکس ریلیف اقدامات منصفانہ اور معاشی طور پر قابل جواز ہونے چاہئیں جبکہ ٹیکس نیٹ میں توسیع اور ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے وزارت خزانہ اور ایف بی آر کو ہدایت کی کہ فنانس بل 2026 پر مزید غور سے قبل محصولات کے تخمینے، مالی اثرات اور عملدرآمد کے تفصیلی منصوبے کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجٹ پیکیج میں 11 ریلیف اقدامات، 10 مالیاتی اصلاحی اقدامات اور 5 انتظامی اصلاحات شامل ہیں جن کا مقصد معاشی ترقی، سرمایہ کاری، برآمدات، دستاویزی معیشت اور ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہے۔

اجلاس میں قائمہ کمیٹی نے 13 جون 2026 کو ہونے والے اپنے گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی بھی منظوری دے دی۔ اجلاس میں متعدد ارکان قومی اسمبلی، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے سینئر حکام نے شرکت کی۔