اسلام آباد (اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس چیئرمین قائمہ کمیٹی سید نوید قمر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں فنانس بل 2026 کی شق وار جانچ کا عمل جاری رکھتے ہوئے اہم سفارشات کو حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس کے دوران وزارت خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور دیگر متعلقہ اداروں نے فنانس بل کی مختلف تجاویز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی نے ٹیکس دہندگان کی تعمیل، جرمانوں کے نظام، سینٹرل ڈیٹا ہب کے قیام، بینکنگ لین دین کا ڈیٹا ایف بی آر کے ساتھ شیئر کرنے، مالی معلومات کے الگورتھم پر مبنی تقابلی جائزے، فیس لیس دائرہ اختیار اور پیچیدہ ٹیکس آڈٹس کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے سے متعلق تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا۔
چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ ٹیکس انتظامیہ کی جدید کاری کا مقصد شفافیت، کارکردگی اور رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کو فروغ دینا ہونا چاہیے جبکہ آئینی تحفظات اور قانون کی پاسداری کرنے والے ٹیکس دہندگان کے حقوق ہر صورت محفوظ رہنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مرکزی ڈیٹا شیئرنگ نظام کی بنیاد مضبوط قانونی ڈھانچے، مؤثر نگرانی، رازداری کے سخت اصولوں اور شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات سے عوام کا اعتماد بڑھنا چاہیے اور ایسا ماحول پیدا ہونا چاہیے جس سے ٹیکس دہندگان کو سہولت ملے نہ کہ خوف و ہراس۔
اجلاس میں ٹیکس قوانین کے تحت جرمانوں سے متعلق مجوزہ ترامیم کا بھی جائزہ لیا گیا، خصوصاً پوشیدہ آمدنی اور اثاثوں سے متعلق دفعات پر غور کیا گیا۔ اراکین کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ بعض مجوزہ جرمانے متوسط طبقے اور قانون کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان پر غیر متناسب بوجھ ڈال سکتے ہیں، لہٰذا نفاذ کے لیے متوازن اور خطرات کی بنیاد پر مرتب کردہ نظام اختیار کیا جانا چاہیے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ ٹیکس نفاذ کے اقدامات منصفانہ، شفاف اور اصولِ انصاف کے مطابق ہونے چاہئیں جبکہ دانستہ ٹیکس چوری کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی بھی یقینی بنائی جائے۔
کمیٹی نے مختلف ٹیکس تجاویز کے مالی اثرات، نفاذ کے طریقہ کار، متوقع محصولات اور کاروباری سرگرمیوں، صارفین اور مجموعی معیشت پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا۔ اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس پالیسیوں کے ذریعے معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ کو یقینی بنایا جائے جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے تعمیل کے اخراجات کم سے کم رکھے جائیں۔ اراکین نے معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ اور مہنگائی میں اضافے سے بچاؤ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سید نوید قمر نے کہا کہ ٹیکس پالیسیاں منصفانہ، شفاف، قابل پیش گوئی اور معیشت کے تمام شعبوں پر یکساں طور پر لاگو ہونی چاہئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار محصولات کے حصول کے لیے موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے آئینی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اہم ٹیکس اقدامات پر مؤثر پارلیمانی نگرانی شفافیت، جوابدہی اور جمہوری طرز حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔
کمیٹی نے وزارت خزانہ اور ایف بی آر کی جانب سے فراہم کی گئی تفصیلی تکنیکی بریفنگ کو سراہا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ مجوزہ قانون سازی کو حتمی شکل دیتے وقت کمیٹی کی سفارشات اور مشاہدات کو شامل کیا جائے۔ کمیٹی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تمام اصلاحات مرحلہ وار، شفاف اور مشاورتی انداز میں نافذ کی جائیں اور ان کے لیے مؤثر نگرانی اور پارلیمنٹ کو باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام وضع کیا جائے۔
طویل غور و خوض کے بعد کمیٹی نے اجلاس میں زیر غور معاملات پر اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے دی اور سیکریٹریٹ کو ہدایت کی کہ انہیں فنانس بل 2026 سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ میں شامل کرکے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ کمیٹی نے فنانس بل 2026 پر مزید غور کے لیے اپنا اگلا اجلاس 20 جون 2026 بروز ہفتہ صبح ساڑھے گیارہ بجے طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں رانا ارادت شریف خان، علی زاہد، سید سمیع الحسن گیلانی، بلال فاروق تارڑ، محمد عثمان اویسی، زیب جعفر، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، حنا ربانی کھر، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محمد جاوید حنیف خان، ارشد عبداللہ ووہرا اور شاہدہ بیگم سمیت دیگر اراکین قومی اسمبلی شریک ہوئے جبکہ وفاقی وزیر خزانہ، وزیر مملکت برائے خزانہ، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری ہوا بازی، ٹیکس پالیسی دفتر کے ڈائریکٹر جنرل، ایف بی آر کے ارکان اور دیگر متعلقہ وزارتوں و اداروں کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔





