تمباکو ٹیکس پر جمود قومی صحت، معیشت اور ماحول کےلئے نقصان دہ ہے، ماہرین

تمباکو ٹیکس پر جمود قومی صحت، معیشت اور ماحول کےلئے نقصان دہ ہے، ماہرین

سالانہ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ،تمباکو صنعت پر موسمیاتی ٹیکس اور مؤثر نگرانی کے ذریعے سگریٹ نوشی میں کمی اور محصولات میں اضافہ ممکن،پالیسی مکالمہ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) صحت، معیشت اور ماحولیات کے ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تمباکو ٹیکسوں پر عائد جمود ختم کرتے ہوئے مہنگائی کے تناسب سے سالانہ ٹیکس میں اضافہ یقینی بنائے،تمباکو صنعت پر موسمیاتی ٹیکس نافذ کرے اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لئے نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنائے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے امراض،صحت عامہ پر بڑھتے اخراجات، ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور محصولات میں ممکنہ نقصان کے باعث پاکستان کو بھاری معاشی اور سماجی قیمت چکانا پڑ رہی ہےجبکہ مؤثر ٹیکس اصلاحات نہ صرف سگریٹ نوشی میں کمی اور ہزاروں جانوں کے تحفظ کا باعث بن سکتی ہیں بلکہ حکومتی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں۔ یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(ایس ڈی پی آئی) اور سوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر (ایس پی ڈی سی) کے اشتراک سے منعقدہ پالیسی مکالمے میں کہی گئیں
اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر عرفان چٹھہ نے کہا کہ تمباکو پر ٹیکس کو محض آمدنی بڑھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی صحت کے تحفظ کے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا بوجھ قومی صحت کے نظام پر مسلسل بڑھ رہا ہےاس لئے سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی اور علاج معالجے کے اخراجات کم کرنے کے لئے مؤثر ٹیکس پالیسی ناگزیر ہے۔ایس پی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر آصف اقبال نے ادارے کی تحقیق پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2023 کے بعد سے سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی حالانکہ ملک کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس رویے کو ’’پالیسی کی بے عملی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے منفی اثرات صحت عامہ اور حکومتی محصولات دونوں پر پڑ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چونکہ سگریٹ پر مخصوص شرح کے تحت ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، اس لئے گزشتہ تین برسوں میں مہنگائی نے ان ٹیکسوں کی حقیقی قدر کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔ ایس پی ڈی سی کے اندازوں کے مطابق سستے سگریٹوں پر حقیقی ٹیکس کا بوجھ فی پیکٹ تقریباً 26 روپے اور مہنگے برانڈز پر تقریباً 84 روپے کم ہو چکا ہے۔
آصف اقبال نے کہا کہ اگرچہ سگریٹ کی قیمتوں میں بظاہر اضافہ ہوا ہےلیکن اس کا زیادہ فائدہ تمباکو کمپنیوں کو پہنچا ہے۔ان کے بقول ٹیکسوں کو منجمد رکھنے سے درحقیقت تمباکو صنعت اور سگریٹ نوشی کرنے والوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ حقیقی معنوں میں سگریٹ نسبتاً سستے ہوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ حکومت ہر سال مہنگائی کی شرح کے مطابق تمباکو ٹیکس میں خودکار اضافہ متعارف کرائے، سستے برانڈز پر ٹیکس بتدریج بڑھائے تاکہ صارفین مہنگے برانڈز چھوڑ کر کم قیمت سگریٹوں کی طرف منتقل نہ ہوں اور فنانس بل کی منظوری سے قبل تمباکو ٹیکس میں کم از کم 21 فیصد اضافہ کیا جائے۔ایس پی ڈی آئی کے وزیٹنگ ریسرچر وسیم افتخار جنجوعہ نے تمباکو کے ماحولیاتی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمباکو اپنی کاشت سے لے کر استعمال کے بعد ضائع ہونے تک ماحول کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمباکو کی کاشت زمین کی زرخیزی میں کمی،جنگلات کی کٹائی اور زرعی زہروں کے بے دریغ استعمال کا باعث بنتی ہےجبکہ تمباکو کے پتوں کو خشک کرنے کے لئے بڑی مقدار میں لکڑی اور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک سگریٹ کی تیاری میں تقریباً 3.7 لیٹر پانی صرف ہوتا ہے اور اس سے اوسطاً 14 گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔ انہوں نے کہادنیا بھر میں تمباکو کی پیداوار کے باعث سالانہ تقریباً 33 لاکھ درخت ختم ہو جاتے ہیں جبکہ سگریٹ کے فلٹر مائیکرو پلاسٹک آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں اور سگریٹ کے ٹکڑے مٹی اور پانی میں زہریلے مادے شامل کرتے ہیں۔وسیم افتخار جنجوعہ نے کہا کہ تمباکو سے پیدا ہونے والا کچرا اور ماحولیاتی نقصان پاکستان کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمباکو صنعت کو اپنی آلودگی اور کاربن اخراج کے اعدادوشمار عوام کے سامنے لانے کا پابند بنایا جائے اور آئندہ بجٹ میں اس صنعت پر موسمیاتی ٹیکس عائد کیا جائے تاکہ ماحول کو نقصان پہنچانے والوں سے اس کی قیمت وصول کی جا سکے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) پاکستان کے نمائندے وسیم سلیم نے کہا کہ تمباکو پر ٹیکس لگانے کا بنیادی مقصد اس کے استعمال میں کمی اور عوامی صحت کا تحفظ ہے۔انہوں نے تمباکو صنعت کے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ زیادہ ٹیکس سے حکومتی آمدنی کم ہو جاتی ہے۔ان کے مطابق پاکستان سمیت مختلف ممالک کے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ ٹیکس میں اضافہ سگریٹ نوشی کم کرنے کے ساتھ ساتھ محصولات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آمدنی اور آبادی میں اضافے کی وجہ سے سگریٹ کی استطاعت برقرار رہتی ہے،اس لئے جامد ٹیکس پالیسی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتی۔ انہوں نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ زیادہ ٹیکس غیر قانونی تجارت کو فروغ دیتا ہے اور کہا کہ بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کا تعلق ٹیکس کی شرح سے زیادہ مؤثر نگرانی اور ٹیکس انتظامیہ سے ہے۔
وزیراعظم آفس کی سینئر محقق ڈاکٹر نادیہ طاہر نے کہا کہ تمباکو پر قابو پانے کے لئے جامع اور شواہد پر مبنی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہےانہوں نے کہا کہ حکومتیں محض بیانیوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ پالیسی ترجیحات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ تمباکو صنعت کی جانب سے محصولات، روزگار اور معاشی فوائد سے متعلق پیش کئے جانے والے دلائل کا مؤثر اور جامع جواب دیا جائے۔