خواتین کی معاشی شمولیت، کیئر ورکرز کو قانونی حیثیت اور ڈے کیئر سہولیات کے فروغ پر زور، وفاقی سیکریٹریز کی عدم شرکت پر برہمی
اسلام آباد(اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے جینڈر مین اسٹریمینگ کا اجلاس چیئرپرسن ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان میں خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت، کیئر اکانومی، بلا معاوضہ نگہداشت کے کام اور خواتین کی رسمی معیشت میں شرکت بڑھانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان بیورو آف شماریات، وزارت سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے خواتین کی معاشی شمولیت، حکومتی اقدامات، کیئر اکانومی کی اہمیت اور پالیسی اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔ تاہم کمیٹی نے بریفنگز کے معیار، اعدادوشمار، تحقیقاتی طریقہ کار اور پالیسی تجزیے کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا۔
کمیٹی نے وزارت سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی، وزارت انسانی حقوق اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے وفاقی سیکریٹریز کی عدم شرکت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی اہمیت کے معاملات میں سینئر قیادت کی ذاتی شرکت ناگزیر ہے اور جونیئر افسران کی نمائندگی پارلیمانی نگرانی کے تقاضے پورے نہیں کرتی۔
اجلاس میں خواتین کی بلا معاوضہ گھریلو خدمات، کیئر ورک، زرعی شعبے میں خواتین کی خدمات، گھریلو ملازمین کے تحفظ، ڈے کیئر مراکز کی کمی، کیئر ورکرز کی قانونی حیثیت، رجسٹریشن کے نظام اور غیر منظم شعبے میں استحصال جیسے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان جینڈر پے گیپ رپورٹ 2025 کے مطابق خواتین کی ماہانہ اجرت مردوں کے مقابلے میں اوسطاً 30 فیصد جبکہ فی گھنٹہ اجرت 25 فیصد کم ہے۔ وزارت سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی نے بتایا کہ حکومت آئی ایل او کنونشنز کے مطابق اجرت میں صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ "ڈیسنٹ ورک کنٹری پروگرام (2023-2027)” اور "گلوبل ایکسیلیریٹر آن جابز اینڈ سوشل پروٹیکشن” کے تحت بھی مختلف منصوبوں پر عمل جاری ہے۔
اجلاس میں خواتین کے محفوظ بیرون ملک روزگار سے متعلق اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ گھریلو ملازمہ کے طور پر بیرون ملک ملازمت کے لیے خواتین کی کم از کم عمر 35 سال سے کم کرکے 25 سال کر دی گئی ہے تاکہ محفوظ اور باقاعدہ روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو سکے۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2012 کا ازسرنو جائزہ لے کر کیئر ورکرز کو قانونی حیثیت دی جائے، گھریلو ملازمین کے لیے جامع رجسٹریشن نظام متعارف کرایا جائے، کیئر ورکر اسکور کارڈ تیار کیا جائے، اور ملک بھر میں ڈے کیئر مراکز کے قیام کو وسعت دی جائے۔
کمیٹی نے وزارت انسانی حقوق کو ہدایت کی کہ کیئر اکانومی پر بین الوزارتی جامع پالیسی بریفنگ تیار کی جائے، پاکستان بیورو آف شماریات اپنے اعدادوشمار اور طریقہ کار کی وضاحت کرے، وزارت سمندر پار پاکستانی خواتین کیئر ورکرز کی تربیت اور بیرون ملک روزگار کے لیے عملی تجاویز پیش کرے، جبکہ پلاننگ کمیشن کیئر اکانومی کو باقاعدہ معاشی شعبہ تسلیم کرتے ہوئے قومی پالیسی فریم ورک تیار کرے۔
اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے پاکستان بیورو آف شماریات اور وزارت سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی کی بریفنگز مسترد کرتے ہوئے معاملے پر مزید غور آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا اور ہدایت کی کہ متعلقہ وفاقی سیکریٹریز آئندہ اجلاس میں ذاتی طور پر جامع پالیسی فریم ورک اور مکمل تیاری کے ساتھ شریک ہوں، بصورت دیگر پارلیمانی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ اجلاس میں کمیٹی کے گزشتہ اجلاسوں کی کارروائی کی بھی توثیق کی گئی۔





