مسلح افواج کے شہداء کو خراجِ عقیدت، اسکردو ایئرپورٹ منصوبوں اور دفاعی تنصیبات کے قریب مفت طبی کیمپوں پر پیش رفت رپورٹ طلب
اسلام آباد(سردار یوسف خان)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس چیئرمین فتح اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں کمیٹی نے پاکستان ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن (ترمیمی) بل 2026 قومی اسمبلی سے منظور کرنے کی سفارش کر دی۔ اجلاس کے آغاز میں مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور وطن کے دفاع کے لیے ان کی لازوال قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ مجوزہ ترمیمی بل فروری 2025 میں سابق ایوی ایشن ڈویژن کے وزارت دفاع میں انضمام کے بعد پیدا ہونے والی قانونی اور انتظامی خامیوں کو دور کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ بل کے تحت بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن (BASI) کا نام تبدیل کرکے بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن پاکستان (BASIP) رکھا جائے گا، جبکہ ادارے کے سربراہ کا عہدہ ڈائریکٹر سے بڑھا کر ڈائریکٹر جنرل کیا جائے گا۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ ترمیمی بل میں ماہرین کی خدمات کے حصول کو آسان بنانے، جزوقتی اور عارضی ملازمین سے متعلق قواعد میں بہتری، مفادات کے ٹکراؤ نہ ہونے کی صورت میں سیکریٹری دفاع کو رعایت دینے کا اختیار، مقدمات کی فوری سماعت اور 2023 کے بنیادی قانون میں موجود تکنیکی خامیوں کی اصلاح کی تجاویز شامل ہیں۔
اجلاس میں سابقہ پارلیمانی ہدایات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے اسکردو ایئرپورٹ کی توسیع، نئے ٹرمینل کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ حاصل کی اور منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی وفد کے دورے پر اتفاق کیا۔
کمیٹی نے وزارت دفاع کو ہدایت کی کہ دفاعی تنصیبات کے اطراف رہنے والی شہری آبادی کے لیے ماہانہ مفت طبی کیمپوں کے قیام سے متعلق پیش رفت کی جامع رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔





