خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جدید اسپورٹس کمپلیکس قائم کرنے، وفاق اور صوبوں میں مؤثر رابطہ بڑھانے کی ہدایت
اسلام آباد(اظہار خان نیازی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا 13واں اجلاس قائم مقام چیئرمین شیخ آفتاب احمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں وزارت بین الصوبائی رابطہ کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
سیکریٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فیفا کے نائب صدر نے پاکستان میں کم از کم دو جدید فٹبال گراؤنڈز کے قیام کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے وزارت کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت ایک ارب 94 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ آئندہ سال پاکستان میں ہونے والے سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کے لیے وفاقی حکومت سے مزید 6 ارب روپے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ نوجوان کوچز کی تربیت کے لیے نیشنل کوچنگ ٹریننگ پروگرام آئندہ ماہ شروع کیا جائے گا، جبکہ مختلف کھیلوں کی فیڈریشنز اسکول سطح کے مقابلے، ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام، کھیلوں کا سامان، ہاکی اسٹکس، ٹریک سوٹس اور دیگر سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ یہ اقدامات سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ بیرون ملک پاکستان کی نمائندگی کرنے والے قومی کھلاڑیوں کے یومیہ الاؤنس میں تین گنا اضافہ کر دیا گیا ہے اور بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز کو بھی قومی کھلاڑیوں کی بھرپور معاونت کی ہدایت دی گئی ہے۔
کمیٹی نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ کھیلوں کی زیادہ تر تربیتی سہولیات اور کیمپس پنجاب اور اسلام آباد تک محدود ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ کھیلوں کی فیڈریشنز کے ہیڈکوارٹرز اور تربیتی مراکز تمام صوبوں میں مساوی بنیادوں پر قائم کیے جائیں تاکہ ملک بھر کے نوجوانوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔
کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جدید اسپورٹس کمپلیکس قائم کیے جائیں تاکہ ان صوبوں کے باصلاحیت نوجوان بھی عالمی معیار کی تربیتی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔
اجلاس میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ مشترکہ مفادات کونسل عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے فراہم کیے جانے والے فنڈز میں سے مناسب حصہ کھیلوں کے فروغ کے لیے مختص کرنے پر غور کرے تاکہ کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہو، نوجوان ٹیلنٹ کو فروغ ملے اور جسمانی و ذہنی صحت بہتر بنائی جا سکے۔
کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تمام صوبائی سیکریٹریز کھیل کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں کھیلوں کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کھیلوں کے شعبے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہے تاکہ ملک بھر میں کھیلوں کی ترقی کے لیے ایک مشترکہ اور مربوط حکمت عملی وضع کی جا سکے۔





