قائمہ کمیٹی کا بی آئی ایس پی ڈیجیٹل والٹ نظام مزید مؤثر بنانے پر زور

بینکوں کی کارکردگی، عوامی آگاہی اور مستحقین کی سہولت بہتر بنانے کی ہدایت، رحیم یار خان واقعہ متاثرین کو معاوضے کی تصدیق

اسلام آباد(اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے غربت کے خاتمہ و سماجی تحفظ کا اجلاس چیئرمین میر غلام علی ٹالپور کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ڈیجیٹل والٹ نظام، بینکوں کی کارکردگی اور مستحقین کو ادائیگیوں کا جائزہ لیا گیا۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ تمام شریک بینک 31 جولائی 2026 تک انٹرآپریبلٹی مکمل کر لیں گے، جبکہ مستحقین کے اکاؤنٹس کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن 31 دسمبر 2026 تک مکمل ہوگی۔ کمیٹی نے عوامی آگاہی کی کمی اور بینکوں کی ناقص کارکردگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بی آئی ایس پی کو مؤثر عملدرآمد، بینکوں کی ضلعی کارکردگی رپورٹ اور آگاہی مہم بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ رحیم یار خان ادائیگی مرکز کے واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 5 لاکھ روپے فی کس معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے۔ کمیٹی نے معذور افراد کے لیے بینکوں میں سہولیات بہتر بنانے اور بی آئی ایس پی میں عملے کی کمی دور کرنے کے لیے بھی اقدامات کی ہدایت کی۔