ڈگری سے بڑھ کر: یانشان یونیورسٹی میں سیکھنے، ترقی اور خود اعتمادی کا سفر

تحریر: محمد اویس حمزہ
ماسٹرز پروگرام، اسکول آف اکنامکس اینڈ مینجمنٹ
یانشان یونیورسٹی، چنہوانگ ڈاؤ، صوبہ ہیبی، چین

جب میں چین کے شہر چنہوانگ ڈاؤ میں واقع یانشان یونیورسٹی میں ایم بی اے کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان سے روانہ ہوا تو میرے ذہن میں صرف ایک مقصد تھا: ڈگری حاصل کرنا۔ بہت سے بین الاقوامی طلبہ کی طرح میں بھی یہی تصور کیے ہوئے تھا کہ میری زندگی کلاس رومز، اسائنمنٹس اور امتحانات کے گرد گھومے گی۔ لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ میری زندگی کے سب سے بڑے اسباق کلاس روم سے باہر ملیں گے۔

چین میں تعلیم حاصل کرنے نے نہ صرف میرے سیکھنے کے انداز کو بدلا بلکہ میرے سوچنے، مسائل حل کرنے اور دنیا کو سمجھنے کے طریقے کو بھی یکسر تبدیل کر دیا۔

پاکستان میں میری تعلیم سخت محنت، اساتذہ کے احترام اور امتحانات پر مضبوط توجہ کے ماحول میں ہوئی۔ ہم نصابی کتابوں کے مطالعے اور امتحانات کی تیاری میں گھنٹوں صرف کرتے تھے۔ اس نظام نے مجھے مضبوط تعلیمی بنیاد اور نظم و ضبط عطا کیا، لیکن اکثر مجھے محسوس ہوتا تھا کہ مجھے بڑے سوالات کرنے، تنقیدی انداز میں سوچنے اور اپنے علم کو عملی زندگی سے جوڑنے کے مزید مواقع درکار ہیں۔

مجھے یہ موقع یانشان یونیورسٹی میں ملا۔ پہلے ہی سمسٹر سے میں نے محسوس کیا کہ یہاں کی کلاسز میری توقعات سے کہیں زیادہ تعاملی (Interactive) ہیں۔ اساتذہ طلبہ کو سوال کرنے، مختلف آراء پر گفتگو کرنے اور اپنے خیالات کو تحقیقی شواہد کے ذریعے ثابت کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ صرف نظریات کو یاد کرنا کافی نہیں تھا بلکہ انہیں سمجھنا، ان پر تنقیدی نظر ڈالنا اور حقیقی کاروباری مسائل پر ان کا اطلاق کرنا بھی ضروری سمجھا جاتا تھا۔

ابتدا میں یہ میرے لیے آسان نہیں تھا۔ میں کلاس میں خاموشی سے سننے کا عادی تھا۔ مباحثوں کے دوران اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے گھبراہٹ محسوس ہوتی تھی کیونکہ مجھے غلطی کرنے کا خوف رہتا تھا۔ تاہم میرے اساتذہ نے ایسا ماحول فراہم کیا جہاں ہر سنجیدہ اور سوچا سمجھا سوال خوش دلی سے قبول کیا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ مجھے اپنی رائے کا اظہار کرنے کا اعتماد حاصل ہوا اور میں نے یہ سیکھا کہ تعلیم کا مقصد ہر سوال کا جواب جاننا نہیں بلکہ درست سوال پوچھنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہے۔

کلاس روم سے باہر چین کی روزمرہ زندگی بھی میری استاد بن گئی۔ خریداری کرنا، پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا یا کھانا آرڈر کرنا جیسے معمولی کام بھی زبان کی رکاوٹ کے باعث ایک نئے تجربے میں تبدیل ہو جاتے تھے۔ کبھی الجھن اور کبھی مایوسی کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن ہر مشکل نے مجھے مزید خودمختار بنایا۔ میں نے سیکھا کہ اعتماد ایک ہی دن میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ چھوٹے چھوٹے تجربات اور مسلسل کوشش سے پروان چڑھتا ہے۔

بین الاقوامی ماحول میں رہنے نے میرے نقطۂ نظر کو بھی وسعت دی۔ میرے ہم جماعت مختلف ممالک، ثقافتوں اور پیشہ ورانہ پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ گروپ مباحثوں کے دوران ایسے خیالات سامنے آتے تھے جن کے بارے میں میں نے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔ مختلف آراء کو سننے سے مجھے احساس ہوا کہ کسی بھی مسئلے کا صرف ایک ہی حل نہیں ہوتا۔

پاکستان اور چین کے تعلیمی نظام میں جو سب سے نمایاں فرق میں نے محسوس کیا، وہ تحقیق کو دی جانے والی اہمیت تھی۔ یانشان یونیورسٹی میں طلبہ کو نصابی کتابوں سے آگے بڑھ کر نئے خیالات تلاش کرنے، بین الاقوامی تحقیقی مطالعات کا جائزہ لینے اور حقیقی دنیا کے مسائل کے عملی حل پیش کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ بطور ایم بی اے طالب علم، جب میں ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں مصنوعی ذہانت (AI) پر تحقیق کر رہا تھا، تو مجھے احساس ہوا کہ تحقیق صرف ڈگری کی ایک شرط نہیں بلکہ دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے اور اسے بہتر بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔

یہاں تعلیم میں ٹیکنالوجی کا کردار بھی بہت نمایاں ہے۔ ڈیجیٹل لائبریریاں، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز اور جدید کلاس روم ٹولز نے تعلیم کو زیادہ منظم، آسان اور قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔ ان سہولیات نے مجھے ایک زیادہ خودمختار طالب علم بننے میں مدد دی اور ایسی مہارتیں سکھائیں جو میری پیشہ ورانہ زندگی میں ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گی۔

آج جب میں اپنے اس سفر پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ چین میں میرا وقت صرف بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ میری ذاتی ترقی کا ایک اہم سفر بھی تھا۔ پاکستان نے مجھے مضبوط تعلیمی بنیاد فراہم کی، جبکہ چین نے مجھے خود اعتمادی، تجسس اور آزادانہ سوچنے کا حوصلہ عطا کیا۔

تعلیم صرف اچھے نمبر حاصل کرنے یا اسناد جمع کرنے کا نام نہیں۔ اصل تعلیم ایک ایسی شخصیت کی تعمیر ہے جو بدلتے ہوئے حالات سے خود کو ہم آہنگ کر سکے، مؤثر انداز میں رابطہ قائم کر سکے اور زندگی بھر سیکھنے کا جذبہ برقرار رکھے۔ جب میں بالآخر اپنے وطن واپس لوٹوں گا تو اپنے ساتھ صرف ایم بی اے کی ڈگری نہیں بلکہ نئے نظریات، مضبوط خود اعتمادی اور یہ یقین بھی لے کر جاؤں گا کہ زندگی کی سب سے بامعنی تعلیم اکثر اُس وقت شروع ہوتی ہے جب ہم اپنے آرام دہ دائرے سے باہر قدم رکھتے ہیں۔