لندن (خصوصی رپورٹ) برطانیہ میں کووڈ-19 وبا کے دوران ذاتی حفاظتی سامان (PPE) کی فراہمی کے نام پر لاکھوں پاؤنڈ کے فراڈ میں ملوث تین افراد کو عدالت نے مجرم قرار دے دیا۔ نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے مطابق ملزمان نے سرمایہ کاروں اور خریداروں سے حاصل کی گئی رقم حفاظتی دستانے خریدنے کے بجائے لگژری گاڑیوں، قیمتی گھڑیوں، زیورات، غیر ملکی تعطیلات اور گھروں کی تزئین و آرائش پر خرچ کی۔
تحقیقات کے مطابق جوگیش بھنڈاری نے 2020 میں نائٹرائل دستانوں کی سپلائی کے لیے ایک کمپنی قائم کی، جبکہ کریگ مورس مختلف معاہدوں میں کمپنی کی نمائندگی کرتا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان لاکھوں پاؤنڈ مالیت کے دستانوں کی فراہمی کے معاہدے کرتے رہے، تاہم وصول ہونے والی رقم دستانے خریدنے کے بجائے ذاتی قرضوں کی ادائیگی، ایک نئی پورشے گاڑی کی خریداری اور گھر کی وسیع پیمانے پر تزئین و آرائش پر خرچ کی گئی۔
این سی اے کے مطابق بینک ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ بھنڈاری خاندان نے سیکڑوں ہزار پاؤنڈ رولیکس اور دیگر مہنگی گھڑیوں، زیورات، آڈی A5، لینڈ روور ڈسکوری، ووکس ویگن گالف سمیت متعدد گاڑیوں اور دنیا بھر کے لگژری سفری پیکجز پر خرچ کیے، جبکہ سرمایہ فراہم کیے جانے کے اصل مقصد پر ایک پاؤنڈ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے پیغامات میں کریگ مورس نے لکھا، "ہر جگہ خبروں میں پی پی ای کی قلت کا ذکر ہے، خوب کمائی کا موقع ہے، بھرپور فائدہ اٹھاؤ۔” جس پر بھنڈاری نے جواب دیا، "یہ اچھی ٹیم ورک اور سب کے پیسے کمانے کے بارے میں ہے۔”
این سی اے کے مطابق تینوں ملزمان کو 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا اور اب عدالت نے انہیں فراڈ کے الزامات میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ کی معیشت کو نقصان پہنچانے والے مالی جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔





