پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک

قبرستان مہر گل کلے میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 3 کلاشنکوفیں، پستول، ہینڈ گرینیڈ، 7 میگزین اور متعدد کارتوس برآمد، دیگر دہشت گردوں کی تلاش جاری

پشاور (خالد خان) کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پشاور ریجن کی میراکچوڑی کے علاقے قبرستان مہر گل کلے میں انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ متعدد دہشت گرد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے 3 کلاشنکوفیں، ایک پستول، ایک ہینڈ گرینیڈ، 7 میگزین اور متعدد کارتوس برآمد کرلیے گئے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق خیبرپختونخوا کو مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ فتنہ الخوارج جے یو اے جمروز گروپ کی قیادت میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کرنے والے دہشت گرد میراکچوڑی میں موجود ہیں۔ اطلاع پر سی ٹی ڈی پشاور ریجن کی سوات ٹیم نے قبرستان مہر گل کلے میں کارروائی کی۔

کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی اہلکاروں کو دیکھتے ہی فائرنگ کردی، جو تقریباً 20 سے 25 منٹ تک جاری رہی۔ فائرنگ رکنے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا تو 4 دہشت گرد ہلاک پائے گئے، جبکہ دیگر دہشت گرد فرار ہوچکے تھے۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران تمام اہلکار محفوظ رہے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق ایک ہلاک دہشت گرد کی شناخت سید ولی ولد عبدالغنی، سکنہ ننگرہار افغانستان کے نام سے ہوئی ہے، جس کی جیب سے افغان مہاجر کارڈ بھی برآمد ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد کی روشنی میں سید ولی قبل ازیں افغانستان سے ضلع خیبر کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کی غرض سے داخل ہونے والے 3 خودکش حملہ آوروں میں سے ایک ہوسکتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ہلاک دہشت گردوں کی دہشت گرد پروفائلنگ کا عمل بھی جاری ہے، جبکہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں تعاقب اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے کامیاب کارروائی پر سی ٹی ڈی پشاور ریجن کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت، بہادری اور حوصلے کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی۔

سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے، ریاستی رٹ کے استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔