سکھو نازیبا ویڈیو و بلیک میلنگ کیس میں اہم پیش رفت، چار ملزمان گرفتار، مقدمہ درج

پولیس نے ملزمان کے خلاف دفعات 292، 506 اور 34 کے تحت کارروائی شروع کر دی، متاثرہ بچی کے والد کا دباؤ میں بیان دینے کا اعتراف، اہلِ علاقہ کا شفاف تفتیش کا مطالبہ

راولپنڈی/گوجرخان (صنوبر کیانی) سکھو میں 13 سالہ بچی کی مبینہ نازیبا ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس چوکی سکھو نے متاثرہ بچی کی والدہ کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے چاروں نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں رانا جہانزیب عرف مٹھو، محمد ادیب، حسیب جاوید اور منیب قریشی شامل ہیں۔ ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 292، 506 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کیس کی ابتدائی مرحلے میں متاثرہ بچی کے والد محمد اجمل نے واقعے کی تردید کرتے ہوئے قرآن پاک پر حلف دینے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم بعد ازاں اے ایس پی گوجرخان آفس میں ہونے والی انکوائری کے دوران انہوں نے اعتراف کیا کہ ان پر شدید دباؤ ڈالا گیا تھا اور حلف کے وقت قرآن مجید کے بجائے ایک عام کتاب رکھی گئی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کے تمام پہلوؤں کا غیرجانبدارانہ انداز میں جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب اہلِ علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ بااثر شخصیات کی کسی بھی ممکنہ مداخلت کو روک کر کیس کو میرٹ پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے، جبکہ گرفتار ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے متعلقہ تفتیشی یونٹ کے حوالے کیا جائے تاکہ ایسے جرائم کی مؤثر روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور متاثرہ خاندان کو بلاامتیاز انصاف فراہم کیا جائے۔