ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی بڑی عدالتی کامیابی، ایک کروڑ 4 لاکھ 75 ہزار روپے سرکاری خزانے میں ضبط کرنے کا حکم
اسلام آباد(آصف ملک) ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے آئیسکو کی بیرونی آڈٹ رپورٹ اپنے حق میں مرتب کروانے کے لیے رشوت دینے کے مقدمے میں بڑی عدالتی کامیابی حاصل کر لی۔ سپیشل جج سنٹرل راولپنڈی عبدالرحمٰن محمد عارف نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچوں ملزمان زیشان علی اکبر، نذر حسین، اشتیاق احمد، جہانگیر احمد اور ثاقب ظہیر کو سترہ، سترہ سال قید بامشقت کی سزا سنا دی، جبکہ برآمد ہونے والی ایک کروڑ 4 لاکھ 75 ہزار روپے کی رقم حکومتِ پاکستان کے خزانے میں ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔
ایف آئی اے کے مطابق اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے 30 اگست 2024 کو کارروائی کرتے ہوئے آئیسکو کے تین ڈویژنل اکاؤنٹس افسران اور دو آڈٹ افسران کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ملزمان کے قبضے سے ایک کروڑ 4 لاکھ 75 ہزار روپے برآمد ہوئے تھے، جو سال 2019 سے 2024 تک کی بیرونی آڈٹ رپورٹ اپنے حق میں سازگار بنوانے کے عوض بطور رشوت دیے جا رہے تھے۔
اس واقعے پر ایف آئی آر نمبر 153/2024 تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 161، 162، 163، 109 اور پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت درج کی گئی تھی۔
ایف آئی اے کے مطابق مقدمے کی کامیاب تفتیش اور پیروی میں انویسٹی گیشن آفیسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوہیب نیازی اور لاء آفیسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر صلاح الدین نے اہم کردار ادا کیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خلاف ایف آئی اے کے مؤثر اقدامات اور احتساب کے عزم کا مظہر ہے۔





