سپریم کورٹ کے نام پر گمراہ کن پروپیگنڈا مسترد، وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) حضرت خواجہ امام بخش سیرانیؒ کے شرعی و قانونی وارث صاحبزادہ یوسف اکرم عباسی نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خانقاہ شریف کی 87 مربع اراضی سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کے حتمی فیصلے پر فوری عملدرآمد کرایا جائےصاحبزادہ یوسف اکرم عباسی نے کہا کہ اس مقدمے میں سپریم کورٹ نے 23 جنوری 2023 کو CRP No 384/2023 اور CRP No 385/2023 اور 11 نومبر 2023 کو نظر ثانی اپیل مسترد کر کے سول کورٹ، سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو میاں احمد بخش وغیرہ کے حق میں برقرار رکھا تھا، جس کے بعد یہ فیصلہ مکمل قانونی حیثیت سے نافذ العمل ہےانہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق حضرت خواجہ امام بخش سیرانیؒ کے حقیقی شرعی و قانونی ورثاء عباسی صاحبان ہیں، جبکہ میاں نجیب اویسی، میاں شعیب اویسی یا اویسی خاندان کے کسی فرد کا وراثت، نسب، ولایت یا جائیداد سے کوئی قانونی تعلق ثابت نہیں ہواپریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ میاں نجیب الدین اویسی سابق ایم این اے ہیں اور ان کے صاحبزادے عثمان نجیب اویسی اس وقت بہاولپور سے ایم این اے جبکہ ان کے بھائی شعیب اویسی ممبر پنجاب اسمبلی ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ سپریم کورٹ سے نظر ثانی اپیل خارج ہونے کے باوجود سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر حقیقی ورثاء کے نام انتقالات درج نہیں ہونے دیے جا رہے۔
انہوں نے کہا کہ کمشنر بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور بورڈ آف ریونیو کو عملدرآمد کے لیے درخواستیں دی گئیں، لیکن تین سال گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں ہوا، جس کے باعث مقدمہ جیتنے کے باوجود اصل حقدار دربدر ہیں صاحبزادہ یوسف اکرم عباسی نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے پنجاب کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائمز ایکٹ 2025 کے حوالے سے کہا کہ ناجائز قبضوں کے خلاف کارروائی کا آغاز اپنی جماعت کے ارکان سے کیا جائے اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کرتے ہوئے ورثاء کے نام انتقالات درج کرائے جائیںانہوں نے وضاحت کی کہ 16 جولائی 2026 کو سپریم کورٹ کے کورٹ نمبر 4 کے دو رکنی بینچ کے سامنے صرف چند بونا فائیڈ خریداروں کی CPLA 3303/2024 آرٹیکل 12/2 کے تحت درخواستیں سماعت کے لیے آئیں، جو پہلے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ سے مسترد ہو چکی تھیں۔ سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کو اپنے دائرہ اختیار سے باہر قرار دے کر لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کو بھجوا دیا، تاہم اس کا باضابطہ تحریری حکم 21 جولائی تک جاری نہیں ہوا ان کا کہنا تھا کہ ان درخواستوں میں میاں نجیب اویسی یا ان کے خاندان کا کوئی فرد فریق نہیں تھا، لیکن پرنٹ میڈیا، ویب چینلز اور فیس بک پر یہ خبر گمراہ کن انداز میں چلائی گئی کہ سپریم کورٹ نے 87 مربع اراضی کا کیس ان کے حق میں دے دیا ہے، جو حقائق کے منافی ہےانہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کا نام استعمال کر کے فیصلوں کو مسخ کرنے اور جھوٹی معلومات پھیلانے کا نوٹس لے کر قانونی کارروائی کا حکم دیا جائےآخر میں انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ، وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور کمشنر بہاولپور ڈویژن سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر فوری عملدرآمد کرا کے جائیداد حقیقی ورثاء کو منتقل کی جائے۔





