امریکا اور پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

واشنگٹن میں چوتھا پاک۔امریکا انسداد دہشت گردی مذاکرات، سرحدی سلامتی، دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے، سرحدی سلامتی بہتر بنانے اور دہشت گرد تنظیموں کے سہولت کار نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ اتفاق رائے واشنگٹن میں 4 اگست کو ہونے والے چوتھے پاک۔امریکا انسداد دہشت گردی مذاکرات کے دوران سامنے آیا۔ امریکی وفد کی قیادت انسداد دہشت گردی کے رابطہ کار سفیر گریگوری لو جیرفو جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت وزارتِ خارجہ کے خصوصی سیکریٹری سفیر نبیل منیر نے کی۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی شراکت داری، موجودہ سیکیورٹی خطرات، باہمی تعاون بڑھانے کے امکانات، سرحدی سلامتی کو مزید مؤثر بنانے اور دہشت گردوں کے سہولت کار نیٹ ورکس کو ناکام بنانے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکا اور پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایسے تمام دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کریں گے جو دونوں ممالک کے شہریوں کی سلامتی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ ان میں داعش خراسان، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس سے وابستہ گروہ شامل ہیں۔
دونوں حکومتوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ انسداد دہشت گردی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں دیرپا امن، خوشحالی اور استحکام کے مشترکہ وژن کو فروغ دیا جا سکے۔