شمشیرالحیدری اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہ کرنے والے عظیم سپوت تھے،انہوں نے سندھ، سندھی زبان، جمہوریت اور مظلوم طبقات کے حق میں ہمیشہ توانا آواز بلند کی، 14 برسی کے موقع پر مقررین کا خراج تحسین .
بدین (نامہ نگار ) سندھ کے نامور شاعر، ادیب، دانشور، ڈرامہ نگار، صحافی اور سندھی ادبی بورڈ کے سابق چیئرمین مرحوم شمشیرالحیدری کی 14ویں برسی کے موقع پر شمشیرالحیدری اکیڈمی کے زیرِ اہتمام بدین پریس کلب میں ایک پروقار علمی و ادبی تقریب منعقد کی گئی، جس میں سیاسی، سماجی، علمی و ادبی شخصیات، شاعروں، صحافیوں، فنکاروں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں سندھ کی نامور بزرگ شخصیت اور انقلابی و مزاحمتی شاعر حافظ نظامانی، سیاسی و سماجی رہنما خادم ٹالپور، قادر بخش ٹالپور، میر بلیدی، حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کے سینئر نائب صدر تنویر احمد آرائیں، بدین پریس کلب کے جنرل سیکریٹری عبدالشکور میمن، سندھ کے معروف فنکار استاد فقیر ذوالفقار لونڈ، علی محمد شاہانی اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے مرحوم شمشیرالحیدری کی ادبی، صحافتی، سیاسی، سماجی اور قومی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ شمشیرالحیدری ان عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے ہر منصب، مقام اور حیثیت کو ذاتی یا خاندانی مفادات کے بجائے قوم، دھرتی، زبان، جمہوریت اور مظلوم انسانوں کے حقوق کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے ہر پلیٹ فارم پر انسانیت سندھ اور سندھی قوم کے مسائل کو اجاگر کیا اور اپنے قلم، فکر اور آواز کے ذریعے حق و سچ کی ترجمانی کی۔
انہوں نے کہا کہ شمشیرالحیدری سندھ کے ایک بہادر، بااصول اور بے باک سپوت تھے، جنہوں نے آمریت ہو یا وقت کے حکمران، ہمیشہ سچ اور حق کی بات کرنے کو اپنا فرض سمجھا۔ وہ کسی دباؤ، مصلحت یا ذاتی مفاد کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہے۔ سندھ اور سندھی قوم سے ان کی محبت محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ان کی پوری عملی زندگی اس محبت، جدوجہد اور فکری وابستگی کی عکاس تھی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ شمشیرالحیدری مظلوموں کی توانا آواز تھے۔ انہوں نے سندھی زبان و ادب کے فروغ، سندھ کی ثقافت اور قومی شعور کی بیداری کے لیے جو خدمات انجام دیں، وہ تاریخ کا اہم اور ناقابلِ فراموش باب ہیں۔ ان کی ادبی تخلیقات، شاعری، ڈرامہ نگاری، صحافت اور فکری جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمشیرالحیدری کو حق اور سچ بات کرنے، مظلوم کا ساتھ دینے اور سندھ کی ترجمانی کرنے کی پاداش میں مختلف مواقع پر اہم عہدوں سے ہٹایا گیا، مراعات واپس لی گئیں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی بے باکی اور اصول پسندی ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف تھی۔ مقررین نے مزید کہا کہ شمشیرالحیدری صرف ایک شاعر یا ادیب نہیں بلکہ ایک مکمل عہد کا نام تھے۔ وہ شاعر، ادیب، دانشور، ڈرامہ نگار، صحافی اور ایک باشعور سماجی و قومی فکر رکھنے والی شخصیت تھے، جنہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور عزت، شہرت اور مقبولیت کی بلندیوں کو چھوا۔
تقریب کے دوران نامور انقلابی اور مذاحمتی شاعر حافظ نظامانی ، اشرف حشرت نے اپنی شاعری کے ذریعے شمشیرالحیدری کی شخصیت اور جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ سندھ کے معروف فنکار استاد فقیر ذوالفقار لونڈ نے اپنی آواز اور فن کے ذریعے مرحوم شمشیرالحیدری کی ملک و قوم، جمہوریت، سندھ اور انسانیت کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ شمشیرالحیدری جسمانی طور پر آج ہمارے درمیان موجود نہیں، تاہم ان کا فکر و فلسفہ، قلم، شاعری، ادبی سرمایہ اور حق و سچ کے لیے جدوجہد آج بھی زندہ ہے۔ ان کی یاد اور خدمات کو زندہ رکھنا دراصل سندھ کی علمی، ادبی، ثقافتی اور جمہوری جدوجہد کی تاریخ کو زندہ رکھنا ہے۔ تقریب میں سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن اللہ ڈنو ملاح، علمی و ادبی شخصیات دانش میمن، اللہ بچایو بھرگڑی، عبدالمجید ملاح ، اسماعیل جعفری ، شعیب جعفری سمیت دیگر سیاسی، سماجی، علمی و ادبی شخصیات، صحافیوں، شاعروں، فنکاروں اور شہریوں نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر شمشیرالحیدری کی ادبی، صحافتی اور قومی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ان کے فکر و فلسفے، ادبی ورثے اور سندھ، سندھی زبان، جمہوریت اور انسانیت کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا .
فوٹو کیپشن .
بدین .
سندھ کے نامور شاعر، ادیب، دانشور، ڈرامہ نگار، صحافی اور سندھی ادبی بورڈ کے سابق چیئرمین مرحوم شمشیرالحیدری کی برسی کے موقع پر منعقد تقریب سے انقلابی اور مذاحمتی شاعر حافظ نظامانی اور دیگر خطاب کر رہے ہیں





